خطبات محمود (جلد 25) — Page 300
خطبات محمود 300 $1944 ہو جائے تو صحیح طریق یہی ہے کہ اس کی اصلاح کر دی جائے۔ارادہ اور نیت کے ساتھ تلاوت کے وقت کوئی شخص غلطی نہیں کرتا۔پھر دنیا میں جو قرآن چھپتے ہیں ان میں بھی زیر زبر کی ہے غلطیاں رہ جاتی ہیں۔دہلی میں کئی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم چھاتے ہیں۔کیا دہلی کے یہ لوگ جنہوں نے ہمارے جلسہ میں شور کیا بتا سکتے ہیں کہ وہ ان میں سے کتنوں کے گھروں پر سنگ باری کرنے گئے اور کتنے مطالع کو توڑا پھوڑا؟ اس بناء پر کہ ان میں چھپے ہوئے قرآن کریم میں میں غلطی رہ گئی تھی۔دہلی کے ایک مطبع والوں نے قرآن کریم شائع کیا اور انہیں اُس کی صحت پر اس قدر اعتماد تھا کہ اعلان کیا کہ اس میں غلطی نکالنے والے کو ایک اشرفی فی غلطی کی انعام دیا جائے گا۔میر مہدی حسن صاحب مرحوم بڑے مُصحح تھے انہوں نے ایک درجن سے زیادہ غلطیاں نکال کر بھیج دیں۔مگر بجائے اس کے کہ اشرفیاں دیتے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ انعام کے لیے ایک وقت مقرر تھا اب نہیں دیا جا سکتا۔مگر ہم نے یہ نہیں سنا کہ دہلی کے ان لوگوں نے اس مطبع والے کے گھر پر جاکر سنگباری کی ہو اور اس کے مطبع وغیرہ کو توڑ پھوڑ دیا ہو اور اس کے متعلق کہا ہو کہ اس نے قرآن کریم میں تحریف کی ہے۔پھر جو غلطی ہوئی وہ ایسی نہ تھی جو صرف ونحو کے اصول سے بالکل نا جائز ہوتی۔عربی میں جوار کے لحاظ سے بھی اعراب آجاتے ہیں اور قرآن کریم میں اس کی بعض مثالیں موجود ہیں۔پس اگر کسی قاری کے منہ سے ایسی غلطی نکل جائے تو یہ کوئی ایسی غلطی نہیں جو علمی لحاظ سے زیادہ قابل اعتراض ہو۔مگر جو نہیں ہے عزیزم ناصر احمد صاحب کے منہ سے یہ لفظ نکلا یہ لوگ شور مچانے لگ گئے اور کسی طرح چپ ہونے میں نہ آتے تھے۔آخر چند نوجوان مجبور ہو گئے کہ ان کو جلسہ گاہ سے باہر نکال دیں۔مگر اُن کی بات سننے کی بجائے ان شور مچانے والوں نے ان پر حملہ کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائی شروع ہو گئی۔دوسری چیز یہ پیدا ہوئی کہ چونکہ اللہ تعالیٰ دہلی والوں کا امتحان لینا چاہتا تھا لاؤڈ سپیکر خراب ہو گیا۔جب ہمارے بعض نوجوان ان لوگوں کو باہر نکالنے لگے اور ان شورش پسندوں نے ان میں سے بعض کو مارنا شروع کر دیا اور ان کا جواب بھی بعض احمدیوں نے دینا شروع کر دیا تو میں نے کہنا شروع کیا کہ ان سے تعریاض نہ کرو۔واپس آجاؤ اور اگر مار پڑے تو یہ