خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 301

$1944 301 خطبات محمود برداشت کرو۔اور میں حیران تھا کہ میری تاکید کے باوجود احمدی واپس کیوں نہیں آرہے۔اس پر ایک شخص نے بتایا کہ لاؤڈ سپیکر خراب ہو گیا ہے اور آپ کی آواز ان لوگوں تک نہیں پہنچ رہی۔تب میں نے آدمی مقرر کیے کہ میری آواز کو دہراتے جائیں۔پھر کہیں جاکر دوستوں کو میری ہدایات کا علم ہوا اور وہ واپس آئے۔تو یہ دوسرا ذریعہ ہو گیا اس فتنہ کو بڑھانے کا۔اس کے بعد ان لوگوں نے نہایت ہی ناروا اور ناواجب طریق اختیار کیا اور ایسی گندی گالیاں دیں کہ جنہیں انسان برداشت نہیں کر سکتا۔اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان تھا کہ اُس نے احمدیوں کو ان کے برداشت کرنے کی توفیق دی۔میں جب جلسہ گاہ میں داخل ہوا تو ایک آدمی سٹیج کے پاس ہی کھڑا تھا۔میں جب اس کے پاس سے گزرا تو اس نے زور سے کہا لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ۔اس کا مطلب یہ تھا کہ تم کا ذب ہو اور تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔مگر ایک احمدی نے زور سے کہا امین۔پس ان لوگوں کا شروع سے ہی طریق اشتعال انگیز تھا۔ہم نے پہلے جلسہ گاہ میں نماز پڑھی۔پھر قرآن کریم کی تلاوت شروع ہوئی مگر ان سب باتوں سے بھی پہلے سے یہ لوگ آوازے کس رہے تھے۔اس جھگڑے کے بعد ان کی لوگوں نے سارے شہر میں یہ اعلان کیا کہ احمدیوں نے ہم پر حملہ کر دیا ہے اور لوگوں کو وہاں ہے چلنا چاہیے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں طرف سے لوگ اکٹھے ہو گئے اور سات آٹھ ہزار کی تعداد میں جلسہ گاہ کے ارد گرد جمع ہو گئے۔لاؤڈ سپیکر تو خراب ہی تھا۔اس لیے ان لوگوں کا شور و شر جلسہ کی کارروائی کو خراب کر رہا تھا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ میری تقریر کے دوران میں وہ کوئی ایسی بات نہ کر سکے کہ تقریر رُک جائے۔لیکن جب مبلغین نے تقریریں شروع کیں اور انہوں نے سمجھا کہ شاید اب ہماری تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ ہم حملہ کر سکتے ہیں ہیں تو انہوں نے اور بھی زور سے نعرے لگانا اور آگے بڑھنا شروع کیا۔پولیس نے ان کو روکا مگر وہ رُکے نہیں۔اتنے میں مجھے پاؤں کی آوازیں زور سے آنی شروع ہوئیں اور میں نے کھڑے ہو کر دیکھا تو سینکڑوں لوگوں کا ایک گروہ عورتوں کی جلسہ گاہ کی طرف حملہ کرنے کے لیے بھاگا جار ہا تھا۔یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے کوئی شریف قوم برداشت نہیں کر سکتی۔پولیس بھی ان کو روکنے کے لیے دوڑی۔وہ لوگ پولیس کے پہلو بہ پہلو دوڑ رہے تھے مگر پہلے وہاں ہے