خطبات محمود (جلد 25) — Page 251
خطبات محمود 251 $1944 وہ کہیں گے خص ہے جس نے نظام میں اپنے لیے ایک چھوٹی سے چھوٹی جگہ پسند کرلی یہ وہ اور امام کے حکم کی اطاعت کی۔پس ایک نظام کے اندر رہ کر کام کرو اور تمہارا امام جس کام کے لیے تمہیں مقرر کرتا ہے اُس کو کرو کہ تمہارے لیے وہی ثواب کا موجب ہو گا۔تمہارے لیے وہی کام تمہاری نجات اور تمہاری ترقی کا باعث ہو گا۔میں دیکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ تبلیغ کے لئے نئے نئے رستے کھول رہا ہے۔ادھر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اب کفر پر حملے کا وقت آگیا ہے اور اُدھر چاروں طرف ایسے حالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اب اسلام اور احمدیت کو جلد سے جلد دنیا میں پھیلانے کا ہے۔ایک ملک کا میں نے خاص طور پر ذکر کیا تھا کہ وہاں کے ایک ایسے آدمی نے بیعت کرلی ہے جو بہت بڑار سوخ اور اثر رکھنے والا ہے۔میں نے مصلحتاً کہہ دیا تھا کہ اس ملک کا نام شائع نہ کیا جائے۔اس کے بعد اب افریقہ سے ہمارے مبلغ مولوی نذیر احمد صاحب کی ایک تازہ چٹھی آئی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ یہاں عیسائیت کے خلاف اور اسلام کی تائید میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک زبر دست رو چل پڑی ہے۔کئی نواب اور رؤساء ہمیں چٹھیاں لکھ رہے ہیں کہ ہمارے پاس جلدی پہنچو اور ہمیں اسلام کی حقیقت بتاؤ۔مگر ہم صرف دو آدمی من ہیں ہر جگہ پہنچ نہیں سکتے لیکن لوگوں کا اصرار روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور بعض تو ایک لمبے عرصے سے ہمیں بلا رہے ہیں۔مگر پھر بھی ہم آدمیوں کی قلت کی وجہ سے اُن تک نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے لکھا کہ ڈیڑھ سال سے ایک چیف ہمیں خط لکھ رہا تھا کہ جلدی آؤ اور مجھے اسلام کی حقیقت سمجھاؤ مگر ہم نہ جاسکے۔اور اب خبر آئی ہے کہ وہ مر گیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری ہم پر ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے ہم کو بلا تار ہا مگر ہم نہ جاسکے۔انہوں نے لکھا ہے کہ یہ رو اس تیزی کے ساتھ چل رہی ہے کہ اب ضروری ہے کہ ہندوستان سے 12 مبلغ اس ملک میں روانہ کیے جائیں۔بہت سے نواب، رؤساء اور ہزاروں کی تعداد میں عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ ہمارے مبلغ ان کے پاس پہنچیں اور انہیں اسلام کی تبلیغ کریں۔پس می انہوں نے تبلیغ کے لیے 12 آدمیوں کا مطالبہ کیا ہے۔وہ واقفین زندگی جن کو تیار کیا جارہا ہے ان کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ ان کی علمی میدان میں جماعت کا رعب قائم رکھنے کے لیے