خطبات محمود (جلد 25) — Page 252
$1944 252 خطبات محمود ضرورت ہے۔پس انہیں اس تعلیم سے فارغ کر کے وہاں تبلیغ کے لیے نہیں بھجوایا جاسکتا۔لیکن میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد سے جلد اپنی مکمل کرنے کی کوشش کریں۔یہ سوال قطعا سنا نہیں جاسکتا کہ تعلیم کا پانچ یا چھ یا سات گھنٹے وقت ہے۔اگر وہ مسلسل چوبیس گھنٹے پڑھ کر بھی اپنی تعلیم کو جلد سے جلد مکمل کر لیتے ہیں تب بھی انہیں سمجھنا چاہیے کہ انہوں نے پوری قربانی ادا نہیں کی۔پس اُن سے تو میں یہ کہتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنی تعلیم کو مکمل کرنے کی کوشش کریں اور جماعت سے میں یہ کہتا ہوں کہ ان کو اس کام سے چونکہ فارغ نہیں کیا جاسکتا اس لیے ضروری ہے کہ جماعت کے اور نوجوان ہے آگے بڑھیں اور ان اغراض کے لیے اپنے نام پیش کریں۔اگر زمیندار گریجوایٹ ہمیں مل جائیں تو انہیں زمینوں کی نگرانی کے لیے بھیجا جا سکتا ہے یا ایسے مضبو ط نوجوان جو زراعت میں ہے گریجوایٹ تو نہ ہوں لیکن تعلیم یافتہ ہوں اور زمیندارہ کام سے دلچسپی رکھتے ہوں وہ بھی اپنے نام پیش کر سکتے ہیں۔ان میں سے کسی کو اکاؤنٹنٹ بنادیا جائے گا، کسی کو منشی بنا دیا جائے گا اور ہے کسی کو اور کام سپر د کر دیا جائے گا۔مگر یاد رکھو زندگی وقف کرنے کے بعد انسان پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔صرف مرتد ہو کر ہی وہ واپس لوٹ سکتا ہے۔اس کے بغیر اس کے لیے کوئی صورت نہیں ہو گی۔یہاں پچھلے دنوں ایک شخص نے غفلت کی۔اس نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی تھی۔می مگر وقف کے بعد اس نے بد عہدی سے کام لیا جس پر میں نے اسے قادیان سے خارج کر دیا اور میں نے کہہ دیا کہ صرف جلسہ سالانہ اور مجلس شوری کے دنوں میں دس دن کے لیے و وہ قادیان آسکتا ہے۔ان ایام کے علاوہ اسے قادیان آنے کی اجازت نہیں۔یہ بھی در حقیقت اس سے نرمی ہی کی گئی ہے ورنہ اصل سزا یہی تھی کہ اسے جماعت سے خارج کر دیا جاتا۔پس ہے جو شخص بھی آئے اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس کا رویہ ایسا قربانی والا ہو کہ وہ سمجھ لے اب میں مر کر ہی اس کام سے ہٹوں گا اس کے علاوہ میرے لیے اور کوئی صورت نہیں۔جب تک کوئی شخص اس رنگ میں اپنے آپ کو وقف نہیں کرتا اُس وقت تک اس کا وقف اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔بہر حال جماعت میں ایسے ہمت والے لوگ