خطبات محمود (جلد 25) — Page 240
$1944 240 خطبات محمود چندوں کے ہمارے پاس مستقل جائیدادیں ہوں جن کی آمد سے اس قسم کے اخراجات کو پورا کیا جاسکے۔اسی لیے میں نے تحریک جدید جاری کی تھی اور اسی لیے میں نے تحریک جدید کے چندہ کے ذریعہ جائیدادیں بنائی ہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جائیدادیں تو بن گئیں لیکن جتنا حصہ جماعت میں سے کام کرنے والے آدمیوں کا تھا وہ مجھے نہیں ملا۔چنانچہ اس وقت تک جتنے آدمی میں نے سندھ کی زمینوں پر کام کرنے کے لیے بھجوائے ہیں وہ سارے کے سارے ناکام رہے ہیں۔در حقیقت آجکل جو ایک عام زمیندار کو آمد ہو رہی ہے اُس سے بھی ہماری زمینوں کی آمد کم ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمیں ابھی تک کام کرنے والے آدمی نہیں ملے۔میں سمجھتا ہوں اگر ایک شخص عام زمیندار کی حیثیت سے کام کرے تب بھی پندرہ میں من فی ایکڑ کپاس ہو سکتی ہے۔اور اگر سلسلہ کا کام سمجھ کر کوئی شخص محنت سے کام کرے تو بچیں، تیس من فی ایکڑ بھی ہو سکتی ہے۔مصر میں پچیس من فی ایکڑ کی اوسط نکالی گئی تھی۔مگر ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کام کرنے والے محنتی ہوں، دیانتدار سلسلہ کے اموال کی اہمیت کو سمجھتے ہوں اور تقوی اور اخلاص سے کام کرنے والے ہوں۔محمود آباد میں جہاں میری زمین ہے وہاں ایک دفعہ ایک کھیت میں سے پچاس من فی ایکڑ کپاس نکلی۔کیونکہ کام کرنے والے نے محنت اور دیانتداری سے کام کیا۔پس محنت سے فصل کو بڑھایا جا سکتا ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں سلسلہ کے کاموں پر اس وقت تک جو لوگ گئے ہیں وہ ایسے ست اور غافل اور بد دیانت ثابت ہوئے ہیں کہ وہاں اوسط پیداوار پانچ من کی ہوئی ہے کیونکہ محنت سے کام نہیں لیا گیا تھا۔میں نے آخر ملازموں سے تنگ آکر بعض واقفین زندگی کو وہاں بھیجوا دیا مگر ان کی حالت بھی ایسی اچھی نہ تھی بلکہ ایک کے متعلق تو ایسی شکایتیں آرہی ہیں کہ شاید مجھے اُس کے متعلق کوئی کمیشن بٹھانا پڑے اور سخت ایکشن لینا پڑے۔کیونکہ شکایت ہے کہ اس نے علاوہ سستی اور ظلم کے بددیانتی سے بھی کام لیا ہے۔پس ہمیں روپیہ کی ہی ضرورت نہیں بلکہ آدمیوں کی بھی ضرورت ہے۔دنیا میں کوئی ترقی آدمیوں می کے بغیر نہیں ہو سکتی۔میں نے تحریک جدید کے شروع میں ہی ایک خطبہ پڑھا تھا۔وہ خطبہ چھپا ہو ا موجود ہے اور اسے نکال کر دیکھا جاسکتا ہے۔میں نے اس میں کہا تھا کہ دنیا میں روپیہ کے ذریعہ ہوں،