خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 191

$1944 191 خطبات محمود پڑھنے کے لیے آنا شروع کر دیا ہے۔اور یا تو مسجد کی دو تین صفیں ہی پر ہوتی تھیں باقی مسجد خالی پڑی رہتی تھی اور یا اب مسجد کا نچلا حصہ بھی پر ہو جاتا ہے، چھت بھی بھر جاتی ہے اور گلیوں میں کھڑے ہو کر لوگوں کو نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں۔یہ خدا کا کتنا بڑا فضل ہے جو ہم پر نازل ہوا کہ یا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ہم مسجد کو پُر کس طرح کریں کافی تعداد میں لوگ یہاں نماز پڑھنے کے لیے آتے ہی نہیں اور یا پرسوں رات سے ہی جبکہ میں نے اِس طرف توجہ دلائی لوگوں کے قلوب میں ایسا تغیر پیدا ہوا اور اُنہوں نے اتنی کثرت سے مسجد میں آنا شروع کر دیا کہ اب مسجد نمازیوں کے لیے بالکل ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ہم نے مسجد مبارک کی توسیع ہے کے لیے دیر سے اُس کے ساتھ ہی ایک جگہ لے رکھی تھی۔مگر اُس کو بڑھانے کا خیال نہیں آتا تھا۔کیونکہ جب پہلے ہی مسجد خالی رہتی ہو تو اسے اور کس طرح بڑھایا جا سکتا تھا۔مگر جب اس میں تحریک کے نتیجہ میں لوگوں نے اتنی کثرت سے وہاں نماز کے لیے آنا شروع کر دیا کہ نمازیوں کے لیے گنجائش نہ رہی تو کل عصر کے وقت میں نے اِس کا ذکر کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں مسجد مبارک کی توسیع کرنی چاہیے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ شام کی نماز کے بعد جب میں بیٹھا ہے تو میں نے بعض ایسے دوستوں کا نام لکھوانا شروع کر دیا جنہوں نے اس غرض کے لیے مجھے چندہ دیا ہوا تھا۔اس پر دوسرے دوستوں نے بھی اُسی وقت چندہ دینا شروع کر دیا اور بعض نے ے لکھوانے شروع کر دیئے اور اس اخلاص سے چندے دیئے اور وعدے لکھوانے شروع کیسے کہ نماز مغرب میں شامل ہونے والے نمازیوں سے ہی اندازہ کی رقم پوری ہو گئی۔ہمارا اندازہ مسجد کی زیادتی کے خرچ کا دس ہزار روپیہ کا تھا۔مگر اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے ہے پندرہ ہزار روپے کے وعدے ہو چکے ہیں * اور ان میں سے سات ہزار روپیہ تو نقد وصول ہو چکا ہے۔باقی روپیہ بھی امید ہے اور دو چار دنوں میں دوستوں کی طرف سے مل جائے گا۔** یہ کیسا شاندار اخلاص کا نمونہ ہے جو ہماری جماعت نے دکھایا۔دنیا میں آج کونسی جماعت ہے جو * آج ہفتہ کی شام تک سترہ ہزار سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں۔** آج ہفتہ کی شام تک دس ہزار سے او پر نقد آچکا ہے۔