خطبات محمود (جلد 25) — Page 166
خطبات محمود 166 $1944 سے ہوئی تھی۔اس لیے ان کا انتخاب گویا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی کیا ہوا تھا۔1921ء کے شروع میں وہ مجھ سے بیاہی گئیں اور اب 1944ء میں وہ فوت ہوئی ہیں۔اس طرح 23 سال کا لمبا عرصہ انہوں نے میرے ساتھ گزارا۔جو لوگ ہمارے گھر کے حالات جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ مجھے ان سے شدید محبت تھی لیکن باوجود اس کے جو اللہ تعالی کا فعل ہے اُس پر کسی قسم کے شکوہ کا ہمارے دل میں پید اہو نا ایمان کے بالکل منافی ہے ہو گا۔ہر چیز اللہ تعالی کی ہی ہے۔ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی تعلیم دی ہے ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ جب کوئی شخص وفات پا جائے، ہمارا اصل کام یہی ہوتا ہے کہ ہم کہہ دیں اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ 1 یہ کیسی لطیف تعزیت ہے ہمارے رب کی طرف سے۔اِس سے بڑھ کر بندہ بھلا کیا تعزیت کر سکتا ہے۔کہتا تو بندہ ہی ہے اِنَّا لِلہ۔مگر سکھانے والا خدا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ نے یہ سکھایا اور بندے کے منہ سے اسے جاری کیا تو وہ الفاظ در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہیں۔ان الفاظ کے معنے یہ ہیں کہ مرنے والا اور باقی رہنے والے سب اس کے ہی ہیں۔پس اگر وہ اللہ کی چیز تھی اور ہم بھی اسی کے ہیں تو اللہ تعالی اگر اپنے ایک غلام کے پاس رکھوائی ہوئی امانت اس سے واپس لے گیا تو اسے شکوہ کا ہے کیا حق ہے۔مگر یہ پہلا حصہ کچھ استغناء ظاہر کرتا ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرما کر دوسرا حصہ اس کے ساتھ لگا دیا کہ انا الیه راجِعُون۔اس طرح اس تعزیت کو مکمل فرما دیا۔پہلے فرمایا تھا کہ اگر ہم تم کو کوئی انعام دیتے ہیں اور پھر وہ انعام تم سے لے لیتے ہیں تو تمہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میرے محسن نے فلاں چیز مجھے دی تھی اور میں اس سے پانچ سال یا دس سال یا بیس سال یا تیس سال یا چالیس یا پچاس سال تک فائدہ اٹھاتا رہا۔اس کے بعد وہ اپنی امانت مجھ سے کیوں لے گیا؟ اس بات پر اسے شکوے کا کیا حق ہے۔یہ تو اس کا احسان تھا کہ جتنی مدت وہ چیز اس کے پاس رہی اس سے وہ پوری طرح فائدہ اٹھا تارہا۔اب اس کے بعد فرماتا ہے کہ یاد رکھو اگر تمہارا کوئی عزیز ہم نے تم سے جدا کر دیا ہے تو مومن کو یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ دنیا سے کسی کا اٹھ جانا دائمی جدائی کا موجب تو نہیں ہوتا۔اگر یہ دائمی جدائی ہوتی اور فرض کرو کہ بعد الموت کوئی زندگی نہ ہوتی ہے