خطبات محمود (جلد 25) — Page 160
خطبات محمود 160 $1944 ایک شخص نے آپ کے آنسو بہتے دیکھ کر کہا۔آپ خدا کے رسول ہو کر روتے ہیں؟؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔خدا نے میرے دل میں رحمت اور شفقت پیدا فرمائی ہے۔اگر تجھے خدا نے اس شفقت اور محبت سے محروم کر دیا ہے تو میں تیرا کیا علاج کر سکتا ہوں؟6 تو کسی رنج اور صدمہ کے موقع پر ہر انسانی قلب کو جو دکھ پہنچاتا ہے اور جسمانی طور پر اس کی طرف سے اظہارِ غم ہوتا ہے، یہ اور چیز ہے۔شریعت اسے رافت اور شفقت قرار دیتی ہے لیکن خدا سے شکوہ کرنا یا یہ کہنا کہ اس نے ہم پر سختی کی ہے یا ہمارا خدا پر کوئی حق تھا یہ کفر میں کی باتیں ہیں۔مومن ایسے کلمات اپنی زبان سے نہیں نکال سکتا۔مومن کا دل اگر ایک طرف بنی نوع انسان کی محبت سے پر ہوتا ہے تو دوسری طرف وہ خدا تعالی کی رضا پر بھی کامل طور پر راضی رہتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی بیوی سے، اپنے بچوں سے، اپنے رشتہ داروں سے، اپنے دوستوں اور عزیزوں سے بلکہ اپنے دوستوں اور عزیزوں کے رشتہ داروں اور تعلق رکھنے والوں سے محبت نہ کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم دیکھتے ہیں آپ اپنی بیویوں سے اس قدر محبت کیا کرتے تھے کہ بیویاں یہ فرماتی ہیں ہم بعض دفعہ پانی پی کر گلاس رکھ دیتیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو میں اٹھاتے اور جہاں ہم نے ہونٹ رکھ کر پانی پیا ہوتا وہاں اپنے ہونٹ رکھ کر پانی پیتے۔یہ گویا بالواسطہ بوسہ ہو گیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دفعہ بیمار تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاس بیٹھے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سر کے اوپر ہاتھ مارا اور کہا ہائے میرا سر۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اُس وقت شدید سر درد تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیوں گھبراتی ہو؟ اللہ فضل کرے گا۔حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ! جانے بھی دیجیے اگر میں مرگئی تو آپ کا کیا ہے آپ ایک اور شادی کر لیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فقرہ کو سن کر فرمایا عائشہ ! تو نے کہا تھا ہائے میرا سر! اور جب میں نے کہا کہ اللہ فضل کرے گا تو تم نے کہہ دیا میرا کیا ہے میں اگر مر گئی تو آپ اور ہے