خطبات محمود (جلد 25) — Page 145
$1944 145 خطبات محمود ضروریات پر اس کو مقدم کر لیں۔حالانکہ جب تک ہم اپنے نفس پر اس کو مقدم نہیں کر لیتے اُس وقت تک ہمارے لیے اس سے محبت کا ادنیٰ سے ادنی دعوی کرنا بھی جائز نہیں ہو سکتا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ جب کوئی شخص یہ کہے کہ اسے خدا سے محبت ہے تو وہ اسی وقت اپنا مکان چھوڑ دے، اپنی جائیدادوں کو ترک کر دے اور اپنے اموال سے دست بردار ہو جائے۔مگر ارادہ تو یہی ہونا چاہیے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز بلند ہو گی ہم اس کا زبان سے نہیں عمل سے ہے جواب دیں گے۔دنیا کیا جانتی ہے کہ کس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز بلند ہونے والی ہے کہ آؤ اور خدا تعالیٰ کے لیے اپنی جانوں کو قربان کر دو، آؤ اور خدا تعالیٰ کے لیے اپنے اموال کو قربان کر دو۔اگر جماعت کو یہ یقین ہے کہ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ و السلام کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، اگر جماعت کو یہ یقین ہے کہ اسلام کے احیاء کا وقت اب آپہنچاتو پھر جماعت کو اس امر پر بھی یقین رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قریب یا بعید میں احیاء اسلام کے لیے آواز بلند ہونے والی ہے۔اور وہی لوگ اس آواز پر لبیک کہہ سکیں گے، وہی مومن اس جہاد میں اپنی جانیں اور اپنے مال لے کر خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو سکیں گے جو ابھی سے اس کی تیاری میں مشغول ہو جائیں گے۔مگر وہ جنہوں نے تیاری نہیں کی ہو گی، وہ جنہوں نے اپنے اعمال کا بھی جائزہ نہیں لیا ہو گا وہ تین اس قربانی سے محروم رہ جائیں گے۔حضرت مسیح ناصری کی پیشگوئی بھی بتارہی ہے کہ کچھ کنواریاں ہے تو دولہا کے ساتھ چل پڑیں گی مگر کچھ کنواریاں پیچھے رہ جائیں گی۔10 اس کے معنے سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کچھ لوگ اپنے ایمان کے دعووں میں ثابت قدم نکلیں گے اور قربانیوں کے معیار پر پورے اتریں گے۔مگر کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو وقت پر کمزوری دکھا جائیں گے۔دیکھو! اخلاص ان کنواریوں میں بھی تھا جو دولہا کے استقبال کے لیے نکلیں۔جو ہم آدھی رات تک اس کا انتظار کرتی رہیں، جو اُس کے آنے کی خوشی مناتی رہیں۔مگر چونکہ ہم انہوں نے اپنی غفلت سے کافی تیل اپنے ساتھ نہ لیا اس لیے جب دولہا آیا تو وہ اس کے ساتھ ہے چلنے سے محروم رہ گئیں۔تیل نہ ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وقت سے پہلے انہوں نے پوری میں تیاری نہیں کی ہوگی۔دنیا میں بہت لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ کہتے ہیں ہم نے اسلام کے لیے ہے