خطبات محمود (جلد 25) — Page 102
$1944 102 خطبات محمود پہلے لکھ چکے ہیں ان سے زیادہ اب کچھ نہیں لکھا جا سکتا، اب قرآن کی کوئی نئی تفسیر نہیں کی جاسکتی، معرفت کی کوئی نئی بات اس کی آیات سے نکالی نہیں جاسکتی تو مسلمانوں میں اُسی وقت تنزیل پید ا ہو نا شروع ہو گیا اور ان کی معرفت جاتی رہی، ان کا علم سلب ہو گیا اور ان کی عقل کمزور ہو گئی اور ان کا فہم جاتا رہا اور وہ ان آسمانی علوم سے اس قدر محروم ہو گئے کہ اس زمانہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے نئے معارف بیان کرنے شروع کر دیے اور ہمارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے عجیب و غریب اسرار کھولے تو مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ تفسیر بالرائے ہے۔گویا انہیں معرفت کی باتوں سے اتنی ہے ڈوری ہو گئی کہ اسلام کی باتیں انہیں کفر کی باتیں دکھائی دینے لگیں اور قرآن کی باتیں انہیں ہے بے دینی کی باتیں نظر آنے لگیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جب قوم سے کہہ دیا گیا کہ آئندہ لوگوں کو کوئی ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہو سکتا، آئندہ کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہو سکتا جو قرآن کریم کو پہلوں سے زیادہ سمجھ سکے۔آئندہ کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہو سکتا جو حدیثوں کو پہلوں سے زیادہ سمجھ سکے۔تو دوسرے الفاظ میں انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہماری قوم ہلاک ہو گئی۔اب اس میں کوئی زندہ وجود باقی نہیں رہا اور جب انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ می ہماری قوم میں کوئی زندہ وجود باقی نہیں رہا، ہماری قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں رہا جو یہ کہہ سکے ہیں کہ میں نے قرآن سے فلاں نئی بات نکالی ہے تو نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے قرآن پر تدبر کرنا ترک کر دیا۔انہوں نے حدیثوں پر غور کرنا چھوڑ دیا۔انہوں نے کہا جب ہمیں کوئی نئی بات نہ قرآن سے حاصل ہو سکتی ہے نہ حدیث سے مل سکتی ہے تو ہمیں قرآن اور حدیث پر غور کرنے میں کی ضرورت ہی کیا ہے۔پرانی تفسیریں ہی ہمارے لیے کافی ہیں۔یہ ایک لازمی نتیجہ تھا اس خیال کا کہ قرآن سے اب کوئی نیا نکتہ نہیں نکل سکتا۔بلکہ رازی اور ابن حیان اور دوسرے مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے ، وہی ہمارے لیے کافی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے اس تباہ کن خیال کے زیر اثر قرآن کریم کے پڑھنے اور اسے سمجھنے کو ترک کر دیا اور اپنا تمام تر انحصار تفسیروں پر رکھ لیا۔پھر یہ عذاب اتنا بڑھا ، اتنا بڑھا کہ آج سے پچیس تیس سال پہلے بڑے بڑے مولوی ایسے تھے جو قرآن کریم کا صحیح ترجمہ تک نہیں جانتے تھے۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے ہمارے لیے قرآن کریم کا