خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 96

خطبات محمود 96 $1944 نہیں آیا کرتے۔وہ اُس وقت آتے ہیں جب لوگوں کے دل واقع میں کافر اور بے دین ہو چکے ہوتے ہیں۔لیکن وہ مصلح اور وہ موعود اور پھر ان سے بڑھ کر وہ نبی اور مامور اور مرسل جنہوں نے ایسے وقت میں ظاہر ہونا ہوتا ہے جب جماعت کا قیام ابھی تازہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ جماعت کی اکثریت کو ان کا انکار کرنا نہیں پڑتا۔جیسے حضرت ہارون علیہ السلام تھے کہ ان کے لیے قوم کو کوئی علیحدہ جنگ نہیں کرنی پڑی۔جب وہ حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو حضرت ہارون پر خود بخود ایمان لے آئے۔یا یوشع نبی ہوئے تو ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح دنیا سے جنگ نہیں کرنی پڑی بلکہ حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے کی وجہ سے اس قوم نے یوشع پر خود بخود اپنے ایمان کا اظہار کر دیا۔تو خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ ایک قوم پر دو دفعہ موت وارد نہیں کیا کرتا۔جب خداتعالی ایک دفعہ اپنی جماعت کا ایمان کسی نبی کے ذریعہ سے محفوظ کر دیتا ہے تو پھر وہ اسی محفوظ ایمان کے ساتھ بڑھتی اور دنیا میں ترقی کرتی ہے۔اسی لیے خدا تعالی نے پہلے علامتیں ظاہر کیں اور پھر مجھے بتا یابلکہ پہلے جماعت خود کہتی رہی تاکہ وقت آنے پر ایمان کی موت سے خدا تعالیٰ اسے بچا لے۔باقی جس قدر مدعی ہیں وہ سارے ہی ایسے ہیں جن کے دعوے کو جماعت چونکہ تسلیم نہیں کرتی اس لیے وہ جماعت کے افراد کو کافر اور بے دین قرار دیتے ہیں۔حالانکہ یہ خدائی سنت کے خلاف ہے کہ وہ ایک نبی کی جماعت پر دو موتیں وارد کرے۔بعد میں جب بگاڑ پید اہو جاتا ہے اور نبی کے زمانہ پر ایک عرصہ دراز گزر جاتا ہے اُس وقت بے شک ایسا مامور آسکتا ہے جس کے انکار کی وجہ سے لوگ کافر اور بے دین قرار پا جائیں۔لیکن جب نبی کے قریب ترین زمانہ میں کوئی مصلح اور ہے موعود آتا ہے خواہ وہ نبی ہو یا غیر نب تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ماتحت پہلے سے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جن کی وجہ سے جماعت کی اکثریت ٹھو کر سے محفوظ رہتی ہے۔تب ایمان اور جماعتی ترقی کا ایک تسلسل جاری رہتا ہے اور اس میں کوئی روک پیدا نہیں ہوتی۔ہاں جب جماعت بگڑ جائے، ایمان مٹ جائے، اخلاق درست نہ رہیں، بے دینی، کفر اور الحاد ہر طرف چھا جائے اُس زمانہ میں جب کوئی موعود آئے گا تو لازما لوگ اُس کا انکار کریں گے اور وہ ایسے طور پر ہی آئے گا کہ اگر کوئی اس کا انکار کرے گا تو وہ اللہ تعالی کے حضور کا فر قرار پائے گا۔پس موعود دو الگ الگ قسم کے ہیں