خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 95

خطبات مج محمود 95 $1944 قرار دینے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہی ہے کہ مَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيْمَانَكُمْ اللہ تعالیٰ مومنوں کو دوسری دفعہ کفر و اسلام کے امتحان میں ڈال کر اُن کے ایمان کو ضائع کرنے کے لیے تیار نہ تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ وہ دو موتیں اپنی جماعت پر وارد کرے۔پہلی موت تو وہ تھی جو غیر احمدیت کی حالت میں اُن پر وارد ہوئی کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کو جھٹلایا۔لیکن آخر ان کے دل کی کسی نیکی کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا اور وہ جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے اور صداقت کو قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کیا، مصیبتوں اور تکلیفوں کو برداشت کیا، ہزاروں دُکھوں اور بلاؤں کا مقابلہ کیا اور اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے ہر وہ عذاب برداشت کیا جو بندے دے سکتے تھے۔اس کے بعد یہ خیال کرنا کہ اس ابتلاء میں سے گزرنے والے لوگوں کی زندگی میں خدا تعالیٰ ایک ایسا موعود بھیج دے گا جس کی صداقت کے نشانات اس کے دعوے کے ایک لمبے عرصہ بعد ظاہر ہوں گے، اس کے یہ معنے ہیں کہ مومنوں کو پھر کفر کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے اور صحابہ کو دوبارہ کافر و منکر بنا دیا جائے، نئے سرے سے جماعت ابتلاء میں پڑ جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی سنت کے خلاف ہے۔پس اللہ تعالی ایسا ہر گز نہیں کر سکتا اور اس وجہ سے اس نے مصلح ہیں موعود کے متعلق جو حضرت مسیح موعود کی تیار کردہ جماعت کی زندگی میں ہی آنے والا تھا یہ تدبیر اختیار کی کہ پہلے اُسے جماعت کا خلیفہ بنا کر اُن سے عہد اطاعت لے لیا اور اُن پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے سامان پیدا کر دیے جو اس کے متعلق بتائی گئی تھیں اور جب حقیقت جماعت پر روز روشن کی طرح کھل گئی تو پھر اسے بھی اس حقیقت سے بذریعہ آسمانی اخبار کے علم دے دیا تا آسمان اور زمین دونوں کی گواہی جمع ہو جائے اور مومنوں کی جماعت کفر و انکار کے داغ سے بھی محفوظ کر دی جائے۔یہ ایسی ہی بات تھی جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر کہا تھا کہ خدا کی قسم! اللہ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔12 یہی حال سب انبیاء کی قائم کر دہ جماعتوں کا ہوتا ہے اور خدائی قانون یہی ہے کہ وہ اپنی جماعت پر دو موتیں وارد نہیں کیا کرتا۔دنیا کو کافر قرار دینے والے اور تمام جہان سے لڑائی کرنے والے نبی اور مامور اور مصلح ایک عرصہ دراز کے بعد آیا کرتے ہیں۔قریب زمانہ میں