خطبات محمود (جلد 25) — Page 759
$1944 759 خطبات محمود اور مہمان عورتوں کو اپنے ساتھ لے لیتی تھیں اور ایک کمرہ میں مرد مہمان مردوں کو اپنے ساتھ لے کر گزارہ کر لیتے تھے۔مگر اب میں محسوس کرتا ہوں کہ اس قسم کا تمدن نہیں رہا اور مہمانوں کے لیے تکالیف اُٹھانا کسی قدر کم ہو رہا ہے جو اچھی علامت نہیں۔اگر چہ ابھی تغیر بہت تھوڑا ہے مگر جب بیماریاں شروع ہوتی ہیں تو پہلے تھوڑی تھوڑی شروع ہوتی ہیں اور بہت معمولی معمولی نظر آتی ہیں اور دیکھنے والے انہیں دیکھ کر یہی کہہ دیتے ہیں کہ کیا حرج ہے۔مگر پھر وہی بڑھتے بڑھتے ایسی صورت اختیار کر لیتی ہیں کہ ان کا مقابلہ کرنا اور ان کو مٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔وہی تمدن جو آج ہندوستان کے گاؤں میں رائج ہے آج سے تین چار سو سال قبل یورپ میں یہی تمدن رائج تھا۔پرانی تاریخیں اور کتابیں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کی بر گیری کرنا، ہمسائیوں کے آرام کا خیال رکھنا اور مہمانوں کے آنے پر گھر والوں کا ایک ہی کمرہ میں جمع ہو جانا یہ سب باتیں یورپ والوں میں پائی جاتی تھیں۔مگر آج ایسا تغیر ان کے تمدن می میں ہو چکا ہے کہ اگر ماں باپ کے پاس بیٹا بھی آئے تو وہ نا پسند کرتے ہیں کہ وہ اجازت لیے بغیر اور یہ پوچھے بغیر کہ وہ اسے کتنے دن اپنے پاس مظہر اسکیں گے آ جائے۔اور بسا اوقات اگر وہ یہ آکر ٹھہرے تو اُس کے ٹھہرنے کے بعد اُسے خرچ کا بل پیش کر دیا جاتا ہے کہ تمہارے کھانے وغیرہ پر اتنا خرچ آیا ہے یہ رقم ادا کرو۔امراء کی حالت تو اور ہے۔ان کی مہمان نوازی تو ساری ہے سیاسی ہوتی ہے اور پھر اُن کے پاس سرمایہ بھی ہوتا ہے۔مگر معمولی طبقہ کے لوگوں کے درمیان اور اوسط طبقہ کے لوگوں کے درمیان یہ طریق رائج ہو گیا ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں سے بھی خرچ لے کر ان کو اپنے پاس رکھتے ہیں اور ان کا کوئی قریب ترین رشتہ دار بھی اگر میں آئے تو وہ ایک حد بندی کے ساتھ اسے اپنے پاس ٹھہراتے ہیں۔ماں بیٹی کو خط لکھے گی کہ تمہیں ہم ملنے کو دل چاہتا ہے اور اس لیے ہم نے یہ انتظام کیا ہے کہ تم تین روز کے لیے یہاں آ جاؤ۔اگر می اس طرح ہندوستان میں کوئی ماں اپنی بیٹی کو وقت معین کر کے بلائے تو وہ شاید آنا بھی پسند نہ کرے۔یہاں اگر کسی کا بیٹا، بیٹی یا اور کوئی رشتہ دار آئے تو وہ اصرار کرتے ہیں کہ ابھی اور ٹھہر و۔مگر وہاں یہ حال نہیں۔وہاں اگر کوئی آسودہ حال آدمی ہے تو اس نے مہمانوں کے لیے