خطبات محمود (جلد 25) — Page 699
*1944 699 خطبات محمود ضرورت تھی اور نظارت امور عامہ نے جماعت کے دوستوں کو اطلاع دی کہ وہ اِس موقع پر قادیان جمع ہوں اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کا فرض ادا کریں۔یہ ایک جائز بات تھی۔قادیان ہمارا مقدس مقام ہے نہ کہ احرار کا۔قادیان ہمارا مرکز ہے نہ کہ احرار کا۔اور اس لیے اگر کسی شخص کو قادیان آنے کا حق ہے تو وہ احمدی ہے کسی دوسرے شخص کا یہ مذہبی حق نہیں۔مگر اُس وقت کی پنجاب گورنمنٹ نے یہ نرالا طریق اختیار کیا کہ باوجود اس کے کہ وہ اطلاع جو ہے نظارت کی طرف سے احمدیوں کو قادیان میں جمع ہونے کی دی گئی تھی حکومت کی طرف سے ہے یہ یقین دلائے جانے پر کہ وہ حفاظت کا انتظام پوری طرح کرے گی منسوخ کر دی گئی ہیں تھی اور جماعتوں کو لکھ دیا گیا تھا کہ ان کے یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔اچانک کریمنل لاء ایمنڈ منٹ ایکٹ (CRIMINAL LAW AMENDMENT ACT) کے ماتحت حکومت کی طرف سے مجھے یہ نوٹس دیا گیا کہ قادیان میں جماعت کے آدمیوں کو بلانے کی آپ کو اجازت نہیں۔یہ بالکل نئی قسم کی چیز تھی۔یہ بالکل ایسی ہی بات تھی جیسے کسی کے ہم ماں باپ کو یا بچے کو لوگ مار رہے ہوں اور گورنمنٹ مارنے والوں کو تو کچھ نہ کہے مگر جسے مارا جا رہا ہے اس کے رشتہ داروں کو حکم دیدے کہ تم اپنے گھروں سے باہر مت نکلو۔غرض اس میں وقت پنجاب بلکہ سارے ہندوستان میں ہمارے خلاف فضا مکدر ہو چکی تھی اور گورنمنٹ اور رعا یا مل کر احمدیت کو کچلنا چاہتے تھے۔یہ حالات دیکھ کر مجھے اس امر کا احساس ہوا کہ یہ نتیجہ ہے اس امر کا کہ ہم نے تبلیغ میں کو تاہی کی ہے اور ہمیں قلیل التعداد اور تھوڑے سمجھ کر جو چاہتا ہے ہم پر ظلم کرنے کے میچ لیے تیار ہو جاتا ہے۔تب خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ تبلیغ کے کام کو وسیع کرنا چاہیے اور جماعت کی قوت اور شوکت کو بڑھانے کے لیے ہر قسم کے سامان جمع کرنے چاہیں۔اس میں خیال کے ماتحت دس سال پہلے میں نے ایک تحریک جاری کی جس کا نام اب تحریک جدید مشہور ہو چکا ہے۔اس تحریک کے کرنے کے وقت خود میرے دل میں اس کی پوری اہمیت نہ تھی اور ہے نہ ہی کام کی وسعت کا اندازہ تھا۔میں نے نوجوانوں کو پکارا کہ وہ آگے آئیں بغیر اِس کے کہ کوئی خاص تعداد میرے ذہن میں مستحضر ہو۔جماعت کے نوجوانوں نے دلیری سے آگے