خطبات محمود (جلد 25) — Page 690
خطبات محمود 690 $1944 سارے سکھ زمیندار نہیں بلکہ اُن میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جو سخت غربت اور تنگی کی حالت میں اپنی زندگی کے دن گزارتے ہیں۔پس بے شک ہماری جماعت کے تاجروں اور صناعوں کا پہلا کام احمدیوں کی مدد کرنا ہے لیکن اس کے بعد انہیں اپنی مدد کا دائرہ وسیع کرنا ہے چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ دوسرے مسلمان جو تجارت اور صنعت میں پیچھے ہیں یا دوسری اقوام جو تجارت اور صنعت میں پیچھے ہیں اُن کی مدد کریں۔یہ تجاویز ابھی بیالی ڈھکو سکے معلوم ہوتی ہیں لیکن جب کوئی جماعت طاقت پکڑ لیتی ہے اور وہ اپنے تمام افراد کو پورے طور پر منتظم کر لیتی ہے تو تھوڑے دنوں میں وہ خود بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہے میں اور دوسری اقوام کی مدد کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتی ہے۔(3) تیسرے وہ ایسی صنعتوں اور تجارتوں کی طرف توجہ کریں جو دین کی ترقی کے لیے مددگار ہوں۔میں ابھی اِس کی تشریح نہیں کرتا۔جب کمیٹی بن جائے گی تو اس وقت میں کمیٹی کے سامنے اس کی تفصیل بیان کروں گا کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف کمیٹیوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا عام لوگوں کے سامنے ذکر کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔پس چونکہ اس کی تفصیل کمیٹی کے سامنے ہی بیان کرنی مناسب ہے۔عام لوگوں میں بعض رازوں کا اظہار نہیں کیا جاسکتا اس لیے میں اِس وقت صرف اسی قدر کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے تاجروں اور صناعوں کو صرف ایسی تجارتوں اور صنعتوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے جس کی طرف توجہ کرنا دینی لحاظ سے مفید ہو۔(4) چوتھے وہ اپنے کاموں کا انتظام اس طرح کریں کہ مزدور کو اُس کا جائز حق ملے اور وقت پر ملے۔(5) پانچویں مزدور بھی اپنی انجمن بنائیں جس طرح صناع اور تاجر اپنی انجمن بنائیں۔مگر جہاں ہے کارخانہ داروں اور تاجروں کی انجمن کی غرض یہ ہوگی کہ وہ مزدوروں کو اُن کا جائز حق دلائیں وہاں متر دوروں کی انجمن کی غرض یہ ہو کہ وہ مزدوروں میں محنت اور دیانت کا مادہ پیدا کریں۔ہم یورپ کا طریق اپنے ہاں جاری کرنا نہیں چاہتے۔وہاں مزدور اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے، تاجر اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے اور صناع اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے۔مگر ہم اور رنگ میں ہے