خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 687

$1944 687 خطبات محمود ترقی میں یہ امور ممد و معاون ہوں تو وہ دنیا نہیں بلکہ دین کماتے ہیں۔بے شک انہیں اپنے کار خانوں اور اپنی تجارتوں کے نتیجہ میں مال بھی ملے گا، دولت بھی ملے گی اور وہ سب چیزیں اُنہیں حاصل ہوں گی جو دنیا داروں کو تجارت اور صنعت و حرفت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں لیکن پھر بھی خدا کی نگاہ میں وہ دیندار سمجھے جائیں گے۔کیونکہ انہوں نے اپنے سامنے اصل مقصد صرف دین کی خدمت اور جماعت کے ساتھ تعاون رکھا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ خدا نے انہیں تابع کے طور پر دنیا بھی دے دی۔چنانچہ صحابہ کو دیکھو انہوں نے جہاد کیا اور اِس لیے کیا کہ کفار نے اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانے کی کوشش شروع کر دی تھی۔انہوں نے ہے اسلام کی حفاظت کے لیے محض دین کی خاطر خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے کلمہ کے اعلاء کی ہے خاطر جہاد کیا اور اپنی جانیں قربان کر دیں۔مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف اسلام قائم ہوا بلکہ یہ اُنہیں بادشاہت بھی حاصل ہو گئی۔اگر وہ صرف بادشاہت کے لیے لڑتے تو وہ دنیا کے کیڑے سمجھے جاتے۔لیکن چونکہ وہ خدا کے لیے لڑے اس لیے نہ صرف وہ شہید قرار پائے بلکہ اس کا ہے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ وہ دنیا کے بادشاہ بن گئے۔جنگ کرنے اور اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لحاظ سے وہ اُسی طرح لڑتے تھے جس طرح آجکل روسی اور جرمن اور انگریز اور فرانسیسی لڑرہے ہیں۔لیکن چونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر دنیا کو بالکل چھوڑ چکے تھے اور اُنہوں نے جنگیں اس لیے نہیں کی تھیں کہ وہ دنیا کمائیں بلکہ انہوں نے اِس لیے جنگیں کیں کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہو۔اور چونکہ انہوں نے محض خدا کی رضا کی خاطر لڑائی کی اس لیے گو وہ اُسی طرح لڑے جس طرح آجکل کی جنگوں میں لوگ لڑتے ہیں مگر نیت اور ارادہ کے فرق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن کو صالح اور شہید اور صدیق قرار دیا اور اُن کو اپنے ابدی انعامات سے اس طرح نوازا کہ آج تک رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ 20 کہتے کہتے مسلمانوں کے منہ سوکھ جاتے ہیں۔اور پھر اس پر مزید انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ حاصل ہوا کہ اُن کو حکومتیں بھی ملیں اور بادشاہتیں بھی حاصل ہوئیں۔اسی طرح اگر ہماری جماعت کے صناع اور تاجر اس نیت اور ارادہ سے صنعت و حرفت اور تجارت کریں کہ وہ تَعَاوُن عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوی کریں گے، ہر کام میں اسلام کی