خطبات محمود (جلد 25) — Page 682
خطبات محمود 682 $1944 کہ سب لوگ دوڑ رہے ہیں۔جب ہم یورپ گئے تو ایک دفعہ میں نے حافظ روشن علی صاحب سے پوچھا یا حافظ صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ نے لنڈن میں کسی کو چلتے بھی دیکھا ہے؟؟ اس کا جواب انہوں نے مجھے یہ دیا یا میں نے انہیں یہ جواب دیا کہ لنڈن میں ہم نے کسی شخص کو اُس طرح چلتے نہیں دیکھا جس طرح ہمارے ملک میں لوگ چلتے ہیں۔بلکہ وہاں ہم نے جس کو بھی دیکھا ہے دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔بازاروں میں بھی ہم نے کسی کو اپنے ملک کے لوگوں نے کی طرح چلتے نہیں دیکھا بلکہ ہر ایک ہمیں دوڑتا ہواہی نظر آیا ہے۔وہاں ہم نے ایک دفعہ ایک عمارت بنتی دیکھی تو حیرت آگئی کہ کس پھرتی کے ساتھ مز دور وہاں کام کر رہے ہیں۔ہمارا مزدور جب اینٹ اٹھانے لگتا ہے تو ہاتھوں میں اٹھا کر اور ایک آہ بھر کر ٹوکری میں ڈالتا ہے۔پھر دوسری اینٹ اٹھاتا اور یہ دکھانے کے لیے کہ وہ کام کر رہا ہے اس طرح پھونک مار مار کر اُس پر سے گرد ہٹاتا ہے کہ گویا اطلس یا کمخواب کا کوئی تھان اُس کے سامنے پڑا ہوا ہے۔کبھی اُس کے ایک طرف پھونک مارے گا کبھی دوسری طرف پھونک مارے گا اور بہانہ صرف یہ ہو گا کہ کچھ نہ کچھ دیر لگ جائے۔پھر آرام سے اٹھتا ہے اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُسے معمار کے پاس لے جاتا ہے اور جب اِس انداز میں وہ دو تین ٹوکریاں اٹھا لیتا ہے تو اُس کے بعد بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے میں حقہ کے دو گھونٹ تو پی لوں۔مگر یورپ میں یہ بات نہیں۔وہاں ہر دوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔اور پھر جس عمارت کا میں نے ذکر کیا ہے وہ عمارت جس طرح میں نے منٹوں میں اُٹھتی دیکھی ہے اُس طرح گھنٹوں میں بھی ہمارے ملک میں کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی۔پس اس کا نتیجہ دونوں کے حق میں خراب نکل رہا ہے مزدور کے حق میں بھی منی اور آقا کے حق میں بھی۔جب مزدور کو اُس کی مزدوری صحیح طور پر نہیں دی جاتی تو وہ بھی دل لگا کر کام نہیں کرتا۔بلکہ اگر اسے پوری اجرت دو تب بھی وہ کام نہیں کرتا۔کیونکہ سستی اور ہے کاہلی اور نکے پن کی اُس کے اندر عادت پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔اس کے لیے ہمیں ایک ایسے انتظام کی ضرورت ہے جو دونوں طرف کی بُری عادتوں کو دور کر دے۔ادھر مزدوروں کو محنت اور دیانتداری سے کام کرنے پر مجبور کرے اور اُدھر مالکوں کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ مزدوروں کو اُن کا پورا حق دیں اور ٹھیک وقت پر دیں۔