خطبات محمود (جلد 25) — Page 67
$1944 67 خطبات محمود میں ہمیشہ ہی اس مضمون سے کتراتا تھا۔اس لیے پیشگوئی کی جو تشریحات تھیں وہ میرے ذہن میں نہ تھیں۔خصوصاً اس سال کے شروع میں جب یہ رویا ہوا یعنی جنوری کے مہینہ میں، اُس وقت تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہ تشریحات میرے سامنے ہو تیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مضمون عرصہ دراز سے میرے سامنے نہ آیا تھا۔بے شک بعض علامتیں جو اس پیشگوئی میں بیان کی گئی ہیں وہ میرے ذہن میں تھیں۔لیکن باوجود اس کے یہ رؤیا مجھے ایسے رنگ میں آئی ہے جسے و مافی ترجمانی نہیں کہا جاسکتا۔اور بعض علامتیں جو اس پیشگوئی میں تو تھیں مگر میرے علم میں نہ تھیں اور گو میں نے وہ علامتیں پڑھی ضرور تھیں مگر اُن علامتوں نے کبھی میرے ذہن میں ہے معین جگہ نہیں پکڑی تھی اور مجھے یاد بھی نہیں تھیں اُن علامتوں کو اس رویا میں اللہ تعالیٰ نے عجیب طریق پر دُہرادیا ہے۔مگر پیشتر اس کے کہ میں اُن مشابہتوں کا ذکر کروں، میں اس امر کا ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ظاہری مشابہت میری رویا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے درمیان پائی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ خبر ایک سفر کے موقع پر دی گئی تھی جبکہ آپ ہوشیار پور گئے ہوئے تھے اور ہوشیار پور میں ہی آپ نے وہ اشتہار لکھا جس میں اس پیشگوئی کا من تفصیل کے ساتھ ذکر آتا ہے۔چنانچہ اس اشتہار کے شائع کرتے وقت آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس الہام کو درج کرتے ہوئے کہ " میں نے تیری تضرعات کو شنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو تیرے لیے مبارک کر دیا۔تحریر فرمایا ہے "جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے " لدھیانہ کا سفر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے کیا اور ہوشیار پور کا سفر بعد میں اور یہ الہامات آپ کو ہوشیار پور میں ہی ہوئے۔چنانچہ میاں بشیر احمد صاحب نے اپنی کتاب "سیرۃ المہدی " میں مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی یہ روایت شائع کی ہے کہ میں اس سفر میں آپ کے ہمراہ تھا۔وہیں آپ پر یہ الہامات نازل ہوئے اور وہیں آپ نے یہ اشتہار شائع کیا۔پس یہ خبر آپ کو ہوشیار پور کے سفر میں ملی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ مجھ کو بھی یہ رویا سفر میں ہی ہوئی ہے جبکہ میں لاہور میں تھا۔پس اس پیشگوئی اور رویا میں سفر کے لحاظ سے بھی آپس میں مشابہت پائی جاتی ہے بلکہ جس وقت میں یہ