خطبات محمود (جلد 25) — Page 661
$1944 661 محمود چھٹی بات یہ ہے کہ ایک عام اصل جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اور جس کو مد نظر رکھنا ہر وقت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ حَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَةً یعنی جس کام میں بھی تم لگے ہوئے ہو تمہارے سامنے صرف ایک ہی مقصد رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ دین کے غلبہ اور ترقی کے لیے تم نے کوشش کرنی ہے۔پس اگر کوئی شخص تجارت کرتا ہے یا صنعت و حرفت اختیار کرتا ہے تو اُسے ہر وقت یہ اصول اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔اس اصول کے ماتحت اگر کوئی شخص اپنی تجارت یا اپنی صنعت کو اسلام کی شوکت اور اُس کے غلبہ کا ذریعہ بناتا ہے تو وہ دنیا نہیں کماتا بلکہ دین کماتا ہے۔خواہ وہ اپنی تجارت اور صنعت کے ذریعہ لاکھوں روپے کیوں نہ کما رہا ہو۔ساتواں حکم قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ ماپ تول اور وزن درست ہونا چاہیے۔10 تاجروں میں بالعموم یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ جائز طور پر مال کمانے کے علاوہ وہ ماپ اور تول میں ہے ضرور کچھ نہ کچھ کمی کر دیتے ہیں۔کبھی بٹے چھوٹے رکھتے ہیں، کبھی ڈنڈی مار دیتے ہیں اور اس طرح کوشش کرتے ہیں کہ وزن میں کچھ نہ کچھ کمی کر لیں۔آٹھواں حکم اسلام نے یہ دیا ہے کہ دھوکا اور فریب اور بناوٹ جائز نہیں۔11 بے شک تم تجارت کرو مگر تجارت میں یہ چیزیں نہیں ہونی چاہیں۔نواں حکم اسلام نے یہ دیا ہے کہ تم جو مال بناؤ یا دوسروں سے خرید و اُسے روک کر نہ رکھ لیا کرو کہ جب مال مہنگا ہو گیا اُس وقت ہم فروخت کریں گے۔12 اگر کوئی تاجر مال کو اس لیے روک کر رکھ لیتا ہے کہ جب مال مہنگا ہو گیا اس وقت وہ اسے فروخت کر کے زیادہ نفع ہے کمائے گا تو اسلام کے رو سے وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔دسواں حکم یہ دیتا ہے کہ تم مزدور کو اُس کا پورا حق دو اور پھر وہ حق اپنے وقت پر ادا کی کرو۔13 گویا مزدور کے متعلق دو حکم اسلام دیتا ہے۔اول یہ کہ اس کی تنخواہ کام کے مطابق مقرر کرو۔دوسرے یہ نہ کرو کہ وقت پر اُس کی مزدوری ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے لگ جاؤ۔میں نے دیکھا ہے کہ بالعموم لوگ اس حکم کی پروا نہیں کرتے۔وہ مزدور سے پورا کام لیتے ہیں لیکن جب اُس کی تنخواہ یا اجرت کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو اس میں تساہل سے