خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 660 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 660

$1944 660 خطبات محمود رستہ میں غرباء و مساکین پر خرچ کرتارہے۔ضَرّاء کے یہ معنے نہیں کہ انسان کے پاس کچھ نہ ہو تب بھی وہ خرچ کرے۔بلکہ ضَرّاء کا لفظ استعمال کرنے کی اصل غرض یہ ہے کہ بڑے بڑے تاجروں پر بھی بعض دفعہ تنگی کے اوقات آجاتے ہیں۔دس میں لاکھ کا کارخانہ ہوتا ہے مگر کسی وجہ سے مال کا فروخت ہونا رُک جاتا ہے۔اُس وقت لوگ کہتے ہیں ہم پر بڑی مصیبت آگئی ہے اب ہم کیا کریں۔پہلی سی حالت ہماری نہیں رہی ہم بڑی تنگی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ایسی حالتیں آئیں اُس وقت بھی تمہارا فرض ہے کہ تم اپنے مال خرچ کرو۔کیونکہ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ایک دس لاکھ روپیہ کے مالک کارخانہ دار کا کام ہے خراب ہو گیا ہے تب بھی چار پانچ لاکھ روپیہ اُس کے گھر میں موجود ہو گا۔پس اسے سمجھنا چاہیے کہ اگر دین کے لیے وہ شخص قربانی کرتا ہے جس کی آمد پانچ دس یا پندرہ لاکھ روپے ہے تو اس کے لیے دین کی خاطر قربانی کرنے میں کونسی مشکل در پیش ہے جب کہ اُس کے قبضہ میں دیع الیہ ہونے کے باوجود چار پانچ لاکھ روپیہ مال ہے۔پس اس آیت کے صرف یہ معنے نہیں ہے ہیں کہ مومن غربت اور امارت دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں بلکہ یہ مطلب بھی ہے کہ امیر پر بھی بعض دفعہ تنگی کی گھڑیاں آجاتی ہیں۔پس اُن تنگی کی گھڑیوں کے متعلق اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ تم اُس حالت میں بھی غرباء و مساکین پر اپناروپیہ خرچ کیا کرو اور یہ نہ کیا کرو کہ ہم کس طرح خرچ کریں ہماری آجکل بکری کم ہے۔جب وہ شخص جس کے پاس تمہارے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں دین کی خاطر قربانی کرتا رہتا ہے تو تمہارے پاس تو پھر بھی لا کھ دولاکھ یا چار لاکھ روپے موجود ہیں تمہارے لیے ہچکچاہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔پانچویں ہدایت جو اسلام نے اس سلسلہ میں دی ہے اور جو تمام لوگوں سے تعلق ہیں رکھتی ہے۔ان لوگوں سے بھی جو تجارت اور صنعت و حرفت کرنے والے ہیں اور ان سے بھی ہے جن کے پاس کسی اور ذریعہ سے مال آتا ہے کہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى & جو شخص بھی کوئی کام کرتا ہو اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیکی اور تقوی کے ساتھ ایک دوسرے کی مدد کرے۔پس وہی تجارت اور وہی صنعت مفید ہو سکتی ہے جو ہر اور تقوی پر دوسروں سے تعاون میں کرتی ہے۔اس کی تشریح انشاء اللہ آگے چل کر کروں گا۔