خطبات محمود (جلد 25) — Page 659
$1944 659 خطبات محمود مومن صناع اپنی تجارت اور اپنے کارخانہ اور اپنی صنعت کو چھوڑ کر اُس آواز کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور خد اتعالیٰ کے احکام کو پورا کرنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ولیا دوسری شرط اسلام نے یہ مقرر کی ہے کہ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِي سَبِيْلِ اللهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابِ اَلِيْمٍ 4 یعنی وہ لوگ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت میں سے نہیں کہلا سکتے جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں۔جو شخص مال کماتا ہے اور اُس کو یہ ذریعہ بنالیتا ہے سونا اور چاندی جمع کرنے کا، بخل کا مرض اُس میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے ، ادھر روپیہ کماتا ہے اور ادھر اُس کو لن کے میں جمع کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا شخص مومن ہے نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مومن بھی اپنی تجارتوں کو بڑھاتے ہیں۔اگر وہ اپنی تجار توں کو ترقی نہیں دیں گے تو ان کے پاس روپیہ کس طرح آئے گا۔روپیہ کمانے کے لیے ضروری ہے کہ تجارت اور صنعت کو فروغ دیا جائے لیکن اگر کسی تجارت یا صنعت کا یہ نتیجہ نکلے کہ انسان روپیہ جمع کرنا شروع کر دے تو اسلام کے لحاظ سے وہ تجارت اور وہ صنعت بالکل ناجائز ہو گی۔وہی تجارت اور وہی صنعت جائز ہے جس کے نتیجہ میں روپیہ جمع نہ کیا جائے۔تیسری چیز جس پر خصوصیت سے اسلام نے زور دیا ہے اور جس کی طرف قرآن کریم میں بار ہا تو جہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ روپیہ بے شک کماؤ مگر جو کچھ کماؤ اس پر زکوۃ ادا کرو اسلام نے بے شک روپیہ جمع کرنا نا جائز قرار دیا ہے مگر روپیہ کمانا منع نہیں ہے کیا۔پس فرماتا ہے اگر تم روپیہ کماتے ہو اور کچھ روپیہ اپنی ضروریات کے لیے عارضی طور پر جمع کر لیتے ہو جس پر ایک سال گزر جاتا ہے تو اس روپیہ پر زکوۃ ادا کیا کرو۔چوتھی بات یہ ہے کہ علاوہ زکوۃ کے اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ سراء اور ضراء دونوں حالتوں میں اتفاق کیا جائے۔چنانچہ اللہ تعالی مومنوں کی یہ صفت بیان فرماتا ہے کہ ان الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ 7 مومن کشائش کی حالت میں بھی اور تنگی کی حالت میں بھی غرباء ومساکین کے لیے اپنے اموال خرچ کرتے رہتے ہیں۔ہر انسان پر خواہ وہ کس قدر مالدار ہو بعض تنگی کی حالتیں آتی ہیں اور بعض حالتیں کشائش رزق کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہیں۔اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ مومن کا فرض ہے وہ ان دونوں حالتوں میں خدا تعالی کے ان