خطبات محمود (جلد 25) — Page 636
خطبات محمود 636 $1944 فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں۔اور یا پھر اُن افراد کی طرف سے خطوط پہنچے ہیں جو جماعتوں میں شامل نہیں۔انفرادی طور پر الگ الگ مرکز میں اپنا چندہ بھجواتے ہیں۔ممکن ہے وہ جماعتیں جن کو اس تحریک میں ابھی تک شامل نہیں کیا گیا وہ بھی موقع پر احتجاج کرتیں جیسے سیالکوٹ ہے، سرگودھا ہے، لائل پور ہے، منٹگمری ہے، گجرات ہے، جہلم ہے، جالندھر ہے ، ہوشیار پور ہے مگر ابھی تک اُن کی طرف سے مجھے اس قسم کے کوئی خطوط موصول نہیں ہوئے۔صرف تین گروہ ہیں جن کی طرف سے مجھے اعتراضات پہنچے ہیں۔اوّل وہ جنہوں نے پورے ترجمہ کا خرچ برداشت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔مگر اس وجہ سے کہ اُس وقت تک تمام تراجم کے حصے پورے ہو چکے تھے اُن کا وعدہ قبول نہ کیا گیا اُن کا یہ اعتراض ہے کہ جماعت میں سے ترجمۃ القرآن کے سلسلہ میں بعض کو چندہ دینے کا دُہر احق دے دیا گیا ہے اور پھر بعض صورتوں میں یہ ڈہر احق اُن کو دیا گیا ہے جنہوں نے اس حق کو مانگا نہیں تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اول تو اگر کوئی مانگے بھی تو اسے زہر احق نہیں ملنا چاہیے لیکن بغیر مانگنے میں اور بغیر تقاضا کرنے کے تو کسی کو اُس کے حق سے زائد کوئی چیز دے دینا بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ بعض اور لوگوں کے حقوق پر اس کا اثر پڑتا ہو درست نہیں ہو سکتا۔اور میں نے ہے جیسا کہ بیان کیا ہے میرے نزدیک اُن کا یہ اعتراض معقول ہے۔دوسرے وہ ہیں جو براہ راست چندہ بھیجا کرتے ہیں انہوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ ہمارے لیے اس تحریک میں شامل ہونے کا کوئی حق نہیں رکھا گیا۔تیسرے وہ جو میدانِ جنگ میں گئے ہوئے ہیں یا فوج میں مختلف عہدوں پر کام کر رہے ہیں اُن کی طرف سے یہ شکایت پہنچی ہے کہ جب ہم آپ کے حکم کے مطابق فوج میں بھرتی ہوئے ہیں تو ہمارا بھی اس تحریک میں حصہ ہونا چاہیے۔در حقیقت ہندوستان میں تین قسم کے سپاہی کام کر رہے ہیں۔ایک وہ جو محض تنخواہ میں اور روپیہ کے لیے فوج میں بھرتی ہوتے ہیں۔اُن کا مقصد صرف دنیا کمانا ہوتا ہے کوئی اور ہے مقصد اُن کے سامنے نہیں ہوتا۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا پیشہ سپاہ گری ہوتا ہے اور وہ فوج میں بھرتی ہو کر اپنی جنگی سپرٹ کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔گو ان لوگوں کے دلوں میں بھی ہے