خطبات محمود (جلد 25) — Page 602
خطبات محمود 602 $1944 کروں۔ہاں اپنا حق میں مقدم سمجھتا ہوں کیونکہ تمام ذمہ داری مجھ پر ہے۔اس لیے ایک ترجمہ کی رقم میں نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔قادیان کا بھی حق ہے کیونکہ یہ خدا تعالی کے عمر سل کا مرکز ہے۔اس لیے میں نے اس کا نام چنا ہے۔بچنا نہیں بلکہ اس کے ثواب کو بچانے کے کے لیے کہ اس کی جگہ کوئی اور نہ لے لے میں نے قادیان کا نام لے دیا ہے۔عورتیں بھی چونکہ بے زبان ہوتی ہیں اور اُن تک آواز پہنچنے میں دیر لگ جاتی ہے اس لیے میں نے ان کا بھی نام لے دیا ہے۔میر احق تھا کہ اس کام میں میرا حصہ ہو اس لیے میں نے اپنا نام لے دیا ہے۔قادیان کا حق تھا کہ اس کام میں اِس کا حصہ ہو اس لیے میں نے قادیان کا نام لے دیا ہے۔عورتوں کا حق تھا کہ اس کام میں ان کا حصہ ہو اس لیے میں نے عورتوں کا نام لے دیا ہے۔جن کے حقوق ظاہر تھے ان کے نام میں نے لے دیے ہیں اور باقی چار ترجموں کی رقم میں نے تین جماعتوں پر چھوڑ دی ہے۔مختلف شہر یا صوبے، یا افراد اپنے ذمہ ایک ایک ترجمہ کی رقم لے لیں اور یہ چندہ مارچ 1945ء کے آخر تک پہنچی جانا چاہیے۔اس وقت تک ہم نے تحریک جدید کے فنڈ سے رقم خرچ کی ہے جو تراجم کی رقوم وصول ہونے پر تحریک جدید کو واپس کر دی جائے گی۔اس لیے چندے اور وعدے بھی تحریک جدید کے نام آنے چاہئیں یعنی اس کے مچی فنانشل سیکر ٹری کے نام۔اس کے بعد چھپوائی کا سوال رہ جاتا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ اِن سات تراجم کی پانچ پانچ ہزار کا پیاں پندرہ پندرہ ہزار روپیہ میں چھپ سکیں گی اور جماعت کے جوش اور اخلاص کو دیکھا جائے تو اس کے لحاظ سے یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔میں سمجھتا ہوں جس وقت تراجم مکمل ہو جائیں گے اُس وقت اس پندرہ پندرہ ہزار روپیہ کی رقم کا ادا کر نا جماعت کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔اس کے بعد ہمارے مبلغوں کے پاس قرآن مجید کے علاوہ کچھ اور لٹریچر ہونا بھی ضروری ہے جو مخصوص اور ضروری مسائل پر مشتمل ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ بارہ بارہ کتابوں کا سیٹ ہمارے مبلغوں کے پاس ہونا چاہیے جسے وہ فروخت کر سکیں یا تحفہ دے سکیں۔چودھری صاحب کے وعدے کے بعد تین