خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 598

$1944 598 خطبات محمود کر لے گا مگر تین یا چار یا دس کروڑ کی آبادی والے ملک میں روزانہ دو تین آدمیوں کو تبلیغ کرنے سے کیا بنے گا۔پھر سال کے تمام دن کام کرنا مشکل ہے۔کسی دن آدمی بیمار ہوتا ہے ، کسی دن کسی اور وجہ سے ناغہ ہو جاتا ہے۔حسابی لوگوں نے سال میں اڑھائی سو دن کام کی اوسط لگائی ہے۔اگر اس کو بڑھا کر تین سو دن بھی کام کا شمار کر لیا جائے اور ایک مبلغ دو آدمیوں کو روزانہ تبلیغ کرے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تین مبلغ سال بھر میں اٹھارہ سو آدمیوں کو تبلیغ کریں گے اور ایک سوسال میں ایک لاکھ اسی ہزار آدمیوں کو تبلیغ کریں گے اور وہ بھی اس طریق سے کہ ایک ایک آدمی کو صرف ایک ایک گھنٹہ تبلیغ ہو گی اور ہر روز نئے آدمی کو تبلیغ کی جائے تب اتنی تعداد بنے گی۔حالانکہ ایک گھنٹہ تبلیغ کرنے سے کیا بنتا ہے۔ایک ایک آدمی کو سو سو گھنٹے تبلیغ کی جائے تب جاکر کہیں کامیابی ہوتی ہے۔پس اگر صرف مبلغ کے ذریعہ تبلیغ پر اکتفا کیا جائے تو تین مبلغ اوسطا دو دو آدمیوں کو روزانہ تبلیغ کر کے سال بھر میں صرف اٹھارہ سو آدمیوں کو تبلیغ کر سکیں گے۔لیکن اگر ان کے پاس اس زبان کا لٹریچر ہو تو ایک مبلغ من ایک دن میں ہزار آدمیوں کو تبلیغ کر سکتا ہے۔وہ اس لٹریچر کو لائبریریوں میں رکھے گا، لوگوں میں تقسیم کرے گا۔پھر مشہور کتابیں پک بھی جاتی ہیں وہ ان کو ایجنٹوں کی معرفت فروخت بھی کرے گا۔پس اگر ملکی زبان کا لٹریچر پاس ہو تو مبلغ کامیاب طور پر تبلیغ کر سکتا ہے اور یہ طریقہ ایسا ہے جس کے ذریعہ سے دو تین یا چار مبلغ پانچ کروڑ کی آبادی کے ملک میں سال ہے بھر میں کئی لاکھ آدمیوں کو کامیاب طور پر تبلیغ کر سکتے ہیں۔گو پوری تبلیغ پھر بھی نہیں کہلا سکے گی کیونکہ اتنی آبادی والے ملک کے لیے تو تین چار سو مبلغ کی ضرورت ہے۔مگر بہر حال اس میں طریق سے ایسی تبلیغ ہو سکے گی جسے نظر انداز نہ کیا جاسکے اور جو بااثر ہو۔تین چار کروڑ کی آبادی والے ملک میں ہمارے مبلغ ایک سال میں چار پانچ لاکھ آدمیوں تک لٹریچر پہنچا سکیں گے اور ہے ہزاروں کے پاس فروخت کر سکیں گے اور اس طریق سے ہماری تبلیغ اس ملک میں پھیل جائے گی۔پس اگر ہم تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور اس کا اچھا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے سامان پیدا کریں کہ جہاں ہمارے مبلغ جائیں ان کے پاس