خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 597

$1944 597 خطبات محمود اسی طرح لمبی حکومت کی وجہ سے سماٹرا، جاوا کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں ڈچ زبان کو پسند کیا جاتا ہے اور مقامی زبان کو اس کے مقابلہ میں کم پسند کیا جاتا ہے۔ان علاقوں میں تبلیغ کرنے کے لیے اس زبان کا جاننا بھی نہایت ضروری ہے۔آٹھویں زبان ہسپانوی ہے۔ہسپانیہ تین چار کروڑ کا ملک ہے۔افریقہ کی بہت سی آبادی کا اسلامی حصہ خصوصاً وہ مورش قوم جنہوں نے سپین پر حکومت کی ہے اور ایک لمبے عرصہ تک سپین میں اسلامی حکومت کے علمبر دار رہے ہیں۔اُس کا بڑا حصہ ہسپانیہ کے ماتحت ہے اور وہاں کے علمی لوگ ملازمت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے اور حکام کے ساتھ تعلقات رکھنے کے لیے ہسپانوی زبان سیکھتے ہیں۔اسی طرح جنوبی امریکہ کا ایک حصہ بھی ہسپانیہ کے ماتحت تھا۔اب وہ آزاد ہے مگر چونکہ ہسپانوی نسل وہاں آباد ہے اس لیے ہسپانوی زبان وہاں اینی بولی جاتی ہے۔پس سپینش زبان جانے کا نہ صرف ہسپانیہ میں تبلیغ کرنے کے لیے فائدہ ہو سکتا ہے بلکہ افریقہ کے بعض اسلامی ممالک میں بھی اور جنوبی امریکہ کے بیشتر حصہ میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ہے نویس زبان پر تگیزی ہے۔پرتگیزی قوم کی باہر تو تھوڑی سی ٹو آبادیات ہیں لیکن جنوبی ہے امریکہ کی بعض حکومتوں کے ماتحت کثرت سے پرتگیزی نسل آباد ہے۔علاوہ ازیں پرتگیزی ہے قوم کی بھی نو آبادیاں دنیا کے مختلف حصوں میں ہیں۔اس لیے اصل ملک کے علاوہ وہاں پر تبلیغ کرنے کے لیے بھی پر تگیزی زبان کا جاننا ضروری ہے۔پس یہ نو زبانیں ہیں جو نہ صرف اپنے اپنے ملک میں بلکہ غیر ممالک میں جا کر بھی کام دیتی ہیں۔اگر ہم دنیا میں تبلیغ کرنا چاہیں تو ہمارے لیے ان نو زبانوں کا جانا اور ان نو زبانوں میں ہے لٹریچر مہیا کرنا ضروری ہے۔عربی، انگریزی، روسی، جرمن، ڈچ، فرانسیسی ، اطالین، ہسپانوی مینی اور پرتگیزی۔اگر ہم اپنے مبلغ ان ممالک میں بھیجیں یا ان ممالک میں بھیجیں جہاں یہ زبانیں بولی یا کبھی جاتی ہیں یا وہاں کی علمی زبان ہیں تو لازمی بات ہے کہ ہمارے مبلغ کے پاس جب تک میں اُس زبان میں لٹریچر نہیں ہو گا وہ مبلغ آسانی کے ساتھ وہاں تبلیغ نہیں کر سکے گا اور جلدی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ایک دن میں ایک مبلغ یہی کر سکے گا کہ دو یا تین آدمیوں کو تبلیغ