خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 579

$1944 579 خطبات محمود فاتح اقوام کے ہاتھوں میں ہی رہے گا نادانی اور جہالت کی بات ہے۔طاقتور قو میں مغلوب ہوتی چلی آئی ہیں اور مغلوب قو میں طاقتور بنتی چلی آئی ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ثبوت تاریخ کے اوراق میں موجود ہے۔پس دنیا میں امن کے قیام کے لیے سامانِ جنگ کا چھین لینا یا مغلوب قوموں کو ان کے ابتدائی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دینا قطعاً کوئی علاج نہیں ہے۔یہ صرف بیماری کی علامتوں کو دبانا ہے اور بیماری کی علامتوں کو دبانا مگر اصل بیماری کا علاج نہ کرنا انسان کو ہرگز شفاء نہیں دے سکتا۔اسی طرح دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک اس نبض اور اس نے حسد کو دور نہ کیا جائے جو تمام فتنہ و فساد کی جڑ ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے آتش جنگ کے شرارے دنیا کے امن کو راکھ کر دیتے ہیں۔پس دنیا میں امن کے قیام کے لیے نفوس کی اصلاح کی ضرورت ہے، اس بات کی ضرورت ہے کہ بعضوں اور کینوں کو دور کیا جائے اور دلوں میں محبت اور پیار پیدا کیا جائے۔مذہبی لا ابالینی بھی آپس کے بغض اور کینہ سے پیدا ہوتی ہے اور دنیوی لڑائیاں بھی آپس کے بغض اور کینہ سے پیدا ہوتی ہیں۔مگر لوگ غلطی سے اُن سامانوں کو تو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو محض بیماری کی علامتیں ہوتی ہیں مگر اصل ہے اندرونی اسباب کو دور کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔ہمارے ملک میں بھی مذہبی لڑائیوں کے پیدا ہونے پر بالعموم لوگ اسی قسم کے علاج سے کام لیا کرتے ہیں جو عارضی ہے تسکین کا موجب ہوتا ہے۔مگر حقیقی اور صحیح علاج کی طرف ان کی نظر نہیں اٹھتی۔جب عیسائیوں کی طرف سے اسلام کے خلاف ایک نہایت ہی گندی کتاب " امہات المومنین" نکلی تو مسلمانوں نے بڑا زور اس بات پر دیا کہ گورنمنٹ کو چاہیے اس کتاب کو ضبط ہے کرائے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا کہ اس کتاب کو ضبط کرنے کا کیا فائدہ ہے۔امہات المومنین " کی تصنیف تو نتیجہ ہے اُس بغض اور اس کینہ کا جو عیسائیوں وغیرہ کے دلوں میں اسلام کے خلاف پایا جاتا ہے۔وہ ایک آہ ہے جو اُن کے سینوں سے بلند ہوئی ہے اور وہ ایسی ہی آہ ہے جیسے درد سے کراہنے والا شدتِ درد میں آہیں بھرتا چلا جاتا ہے۔یا کسی شخص کو جنون ہو جائے تو وہ بے تحاشا گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔ایسی صورت میں