خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 540

$1944 540 خطبات محمود آپ بتائیں یہ تینوں ایک ہی خدا کی الگ الگ حیثیتیں ہیں یا تینوں حقیقتا خدا ہیں ؟ اس نے کہا یہ حیثیتیں نہیں بلکہ حقیقتا تینوں خدا ہیں۔اُس وقت میں یہ بات سمجھتا تھا کہ اگر صفات کے متعلق پہلے سے ہی بات صاف نہ کر لی گئی تو یہ دلیل میں پھنس کر اپنے بچاؤ کے لیے صفات کی طرف آجائے گا اور کہہ دے گا کہ تینوں اقنوم ایک خدا کی صفات ہیں الگ ہستیاں نہیں اس لیے میں نے اس سے منوالیا کہ یہ صفات نہیں بلکہ حقیقت تینوں خدا ہیں۔پھر میں نے پوچھا یہ تینوں میں مل کر ایک خدا بنتا ہے یا تینوں اپنی اپنی ذات میں خدا ہیں ؟ کہنے لگا چونکہ تینوں ایک ہی مقصد کے لیے ہیں اس لیے ایک ہی ہیں اور چونکہ تینوں اپنی اپنی ذات میں مکمل ہیں۔اس لیے تین ہیں۔پھر میں نے سوال کیا یہ بتائیے اگر تینوں اپنی اپنی ذات میں مکمل ہیں تو یہ جو دنیا نظر ان آ رہی ہے کیا اس کو پیدا کرنے کی اکیلے باپ میں طاقت تھی؟ کیا اکیلے بیٹے میں اس دنیا کو پیدا کرنے کی طاقت تھی؟ کیا اکیلے روح القدس میں اس دنیا کو پیدا کرنے کی طاقت تھی؟ کہنے ہے لگا ہاں۔اس کے بعد میں نے کہا اب میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ فرض کرو آپ کو نوٹ کرنے کے لیے اس پنسل کی ضرورت ہے جو آپ کے سامنے میز پر پڑی ہے۔اس کو اٹھانے کا ایک طریق تو یہ ہے کہ آپ اُٹھیں اور خود ہی اس پنسل کو اٹھا لیں۔دوسرا طریق یہ ہے ہے کہ وہ صاحب جو سامنے بیٹھے ہیں یہ آپ ان سے کہیں کہ مہربانی کر کے یہ چنسل اٹھادیں۔یہ دونوں طریق تو سمجھ میں آجاتے ہیں لیکن اگر آپ اس کی بجائے یہ طریق اختیار کریں کہ آپ ہے کھڑے ہو جائیں اور اپنے پاس والے کو بھی کہیں کہ مہربانی کر کے ذرا میری مدد کریں اور ارد گرد بیٹھنے والوں کو بھی بلا لیں اور اپنے بیرے اور خانسامہ کو بھی آوازیں دینا شروع کر دیں کہ ذرا ادھر آنا اور پھر سب مل کر اس ایک پنسل کو اٹھانے کی کوشش کریں تو اب بتائیں یہ پاگل پن کی بات ہوگی یا عقلمندی کی ؟ کہنے لگا اس کا ہماری بات سے کیا تعلق ہے ؟ میں نے یے کیا تعلق ہے یا نہیں۔اس کو آپ رہنے دیں۔پہلے جو میں پوچھتا ہوں آپ اُس کا جواب دیں۔کہنے لگا یہ تو یقینا پاگل پن کی بات ہوگی کہ ایک پنسل کو اٹھانے کے لیے میں اتنے آدمیوں کو اکٹھا کروں اور اپنی مدد کے لیے بلانا شروع کر دوں۔میں نے کہا اب آپ فرمائیے کہ آپ میں وقت میاں شریف احمد صاحب سامنے بیٹھے تھے۔