خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 529

خطبات محمود 529 $1944 خدا تعالیٰ انبیاء کے زمانہ میں عجیب تضاد پیدا کر دیتا ہے کہ انبیاء اپنی بعثت کے زمانہ میں ایک طرف تو حرام کو حلال کر دیتے ہیں جیسے خدا کا کلام کرنا، اُس کا دیدار نصیب ہونا۔اِن چیزوں کو اُن کی بعثت سے پہلے لوگ حرام سمجھتے ہیں۔انبیاء آکر نئے سرے سے ان کو جائز کر دیتے ہیں۔دوسری طرف انبیاء آکر حلال کو حرام کر دیتے ہیں۔وہی چیزیں جو بعد میں یا پہلے جائز ہوتی ہیں دین کے مطالبات کے ماتحت حرام ہو جاتی ہیں۔ہزاروں دفعہ مومنوں کی جماعت کو کھانا پینا، اپنی جائیداد، عمدہ جذبات، خواہش اور وطن جس کی محبت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایمان کی علامتوں میں سے بیان فرمایا ہے کے ان سب چیزوں کو اپنے ہی او پر حرام کرنا پڑتا ہے۔اگر کوئی مومن ایسا نہ کرے تو اس کا ایمان باطل ہو جاتا ہے۔گو یا انبیاء ایک طرف تو حرام چیزوں کو حلال کر دیتے ہیں اور جن چیزوں سے دنیا محروم ہوتی ہے وہ ان می کو نئے سرے سے لے آتے ہیں اور دوسری طرف جو چیز میں ضروری اور جائز ہوتی ہیں اُن کو حرام کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں اور اس کے مطابق جائز حقوق اور جائز چیزوں کو دین کے مطالبات کے ماتحت چھوڑنا پڑتا ہے۔اگر کوئی ایسا نہیں کر تا تو وہ ایمان کی حد سے نکل جاتا ہے۔وطن کی محبت ایمان میں شامل ہے لیکن خدا تعالی بعض دفعہ ہجرت کا حکم فرماتا ہے اور وطن کو چھوڑنا پڑتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہو امارا جائے وہ شہید ہے۔2 لیکن دین کے مطالبات کے ماتحت اس مال کو ہے بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔پس جو چیز دوسرے وقت میں ایمان میں شامل ہوتی ہے نبی کے وقت میں وہی چیز دین کے مطالبات کے ماتحت حرام اور قطعی حرام ہو جاتی ہے اور اگر کوئی شخص پھر بھی اُس کو لینے کی خواہش کرے تو وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہو جاتا ہے۔پس انبیاء آکر کچھ تو حرام حصہ کو حلال کر دیتے ہیں اور کچھ حلال حصہ کو حرام کر دیتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو کبھی ہے حقیقی ایمان کا نمونہ قائم نہ ہو سکے۔ہماری جماعت کے آدمی بھی بعض دفعہ لڑ پڑتے ہیں کہ ہمارا یہ حق مارا گیا اور ہمارا وہ حق نہیں ملا۔وہ یہ نہیں جانتے کہ انبیاء کے زمانہ میں حقوق تلف کرنے میں ایمان ہوتا ہے۔جو شخص اپنا مال، اپنی دولت، اپنا آرام و آسائش، اپنے جذبات، اپنی خواہش،