خطبات محمود (جلد 25) — Page 513
خطبات محمود 513 $1944 جس شخص کو بڑے ہو کر اللہ کا علم ہو چکا ہو اُس کا غیر اللہ کی محبت میں پھنسے رہنا عرفان نہیں بلکہ ، ضد اور ہٹ دھرمی کہلائے گا۔جس طرح اُس شخص کو جو زید کی تلاش میں تھا اگر معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ زید کا گھر نہیں بلکہ غیر زید کا ہے اور وہ زید کی تلاش کو چھوڑ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تو اُس کا ٹھہر جانا عرفان نہیں کہلا تا بلکہ ہٹ دھرمی کہلاتا ہے۔پس إِلَّا الله سے پہلے لا الهَ ایک فطرتی دروازہ ہے جس سے گزر کر انسان خدا تک پہنچتا ہے۔بچہ ماں کی محبت میں سے ہے گزرتا ہے، باپ کی محبت میں سے گزرتا ہے، بھائی کی محبت میں سے گزرتا ہے، دوستوں اور ہمجولیوں کی محبت میں سے گزرتا ہے، کھیل کود کی محبت میں سے گزرتا ہے، کھانے پینے اور پہننے کی چیزوں کی محبت میں سے گزرتا ہے اور ان سب چیزوں میں سے گزر کر آخر خدا تک جا پہنچتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِلى رَبِّكَ مُنْتَههَا 3 کہ ان تمام چیزوں میں سے جو غیر اللہ ہیں گزر کر ایک دن انسان اپنی منزل مقصود یعنی خدا تک جا پہنچتا ہے اور وہ فوراًہی اس منزل پر نہیں پہنچ جاتا۔بلکہ راستہ میں کئی چیزیں آتی ہیں جن کو بچپن کی وجہ سے خدا سمجھ لیتا ہے۔پستان کو بھی خدا سمجھ لیتا ہے ، ماں کو بھی خدا سمجھ لیتا ہے ، باپ کو بھی خدا سمجھ لیتا ہے، دوستوں کو بھی خدا سمجھ لیتا ہے، کھانے پینے اور پہنے کی چیزوں کو بھی خدا سمجھ لیتا ہے مگر آہستہ آہستہ ان سب کو چھوڑتا چلا جاتا ہے اور ہر چیز اُس کی انگلی پکڑ کر اُسے خدا کے قریب کر دیتی ہے۔پس اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ میں یہ حکمت ہے کہ اگر انسان نیک نیتی اور حقیقی تڑپ کے ساتھ خدا کی تلاش میں بظاہر غیر اللہ سے محبت کرتا ہے اُس کی محبت اور تڑپ آخر اُسے خدا کی طرف لے جاتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَتَهْدِيَنَّهُمْ سُبلتا 4 کہ جو شخص سچی محبت اور حقیقی تڑپ کے ساتھ ہماری تلاش کرتا ہے، ہماری تلاش میں اُس کا ہر قدم اُسے ہمارے قریب کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس پہنچ جاتا ہے۔اس نکتے کو اگر ہم سمجھ لیں تو دنیا کی ساری خرابیاں دور ہو جائیں۔دنیا کی ہے ساری خرابیاں اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ اللہ کا علم ہونے پر بھی انسان نیک نیتی سے اس می تک پہنچنے کی جدوجہد نہیں کرتا۔اُسے اللہ تعالی کا علم تو ہوتا ہے مگر پیار نہیں ہوتا۔اسے می