خطبات محمود (جلد 25) — Page 508
خطبات محمود 508 $1944 دیکھنے کے لیے اگر آنکھ اتفاقاً پیدا ہو گئی تو اس کے مقابل میں سورج کی روشنی بھی اتفاقاً پیدا ہو گئی ؟ سونگھنے کے لیے اگر ناک اتفاقاً پیدا ہو گئی تو کیا اس کے مقابل میں خوشبو بھی اتفاقاً پیدا ہو گئی ؟ اگر سننے کے لیے کان اتفاقا پیدا ہو گئے تو کیا اس کے مقابل میں ہوا کے اندر بھی جنبش کر کے کانوں تک آواز پہنچانے کی قابلیت اتفاقاً پیدا ہو گئی ؟ پس ان چیزوں کے اندر اگر کوئی جوڑ نہ ہوتا، کوئی ترتیب نہ ہوتی اور کوئی حکمت نہ ہوتی تو ان کو اتفاق کہا جا سکتا تھا۔لیکن دنیا کا ہے کوئی ذرہ ایسا نہیں جس میں کوئی ترتیب نہ ہو ، کوئی ذرہ ایسا نہیں جس میں کوئی حکمت نہ ہو، کوئی چیز ایسی نہیں جس کا کسی دوسری چیز سے جوڑ اور وابستگی نہ ہو۔تو ہم کس طرح مان لیں کہ یہ ساری کی ساری چیزیں اور یہ سارے کا سارا نظام خود بخود اور اتفاقی ہے۔پس خدا تعالیٰ کے موجو د ہونے کی یہ دلیل قرآن مجید نے دی ہے۔مگر یہ دلیل اسی صورت میں فائدہ دے سکتی ہے جب انسان بڑا ہو اور ان چیزوں پر غور کرے۔آنکھوں سے دیکھے، دل اور دماغ سے سو چھے ، ادھر ان چیزوں پر نگاہ ڈالے ، اُدھر اپنے دل کے جذبات پر غور کرے، سورج اور چاند کی روشنی کو دیکھے، ہوا اور اُس کے اثرات پر غور کرے، گرمی اور سردی کے اثرات کو دیکھے، سبزیوں اور ترکاریوں کے پید اہونے اور ان خاصیتوں پر غور کرے۔جب تک وہ ان چیزوں پر غور کرنے اور ان سے نتیجہ نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتا اُس وقت تک وہ خدا تعالیٰ تک کس طرح پہنچ سکتا ہے۔یہ بات خلاف عقل ہے کہ ایک بچہ ان تمام چیزوں پر غور کر کے اس نتیجہ تک پہنچ جائے کہ ایک خدا موجود ہے۔بچہ تو سب سے پہلے اپنی ماں سے روشناس ہوتا ہے اور اُسی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔پھر جب اُس کو پتہ لگتا ہے کہ ماں کو بھی سب چیزیں باپ ہی لا کر دیتا ہے تو یہ پھر وہ باپ سے محبت کرتا ہے۔بڑا ہو کر جب اپنی گلی کے بچوں سے کھیلتا ہے تو پھر اُن سے محبت کرتا ہے۔اگر اُس کا کوئی دوست نہ ملے تو رونے لگ جاتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ میرے دوست کو بلاؤ، اُس کے بغیر میرا گزارہ نہیں۔پھر کھانے پینے اور پہنے کی چیزوں کا شوق پیدا ہوتا ہے تو ان سے محبت کرتا ہے۔اگر اُس کی مرضی کے مطابق کھانا نہ ملے یا مرضی کے مطابق کپڑا نہ ملے تو روٹھ جاتا ہے کہ میرا اُس کے بغیر گزارہ نہیں۔پھر اور بڑا ہوتا ہے تو سیر وشکا سے محبت کرتا ہے اور ان چیزوں کے بغیر اپنی زندگی کو بے تکلف سمجھتا ہے۔غرض یہ چیزیں ہیں