خطبات محمود (جلد 25) — Page 482
$1944 482 خطبات محمود ملنا چاہیے۔جیسے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور ابو جہل کے گھر پر جا پہنچے جو آپ کا دشمن تھا۔اسی طرح ہماری جماعت کے چند افراد یہ عہد کر لیں کہ ہم دیانت اور امانت کو قائم کریں گے اور جہاں پتہ لگے گا کہ کسی کی حق تلفی ہو رہی ہے چاہے کوئی پوچھے یا نہ پوچھے ہم چودھری بن کر جا پہنچیں گے اور کوشش کریں گے کہ مظلوم کا حق دلایا جائے۔مگر اس جاف میں کے لیے ابتدا میں کچھ تعداد ہونی چاہیے۔اکیلے معاہدہ کرنے کے کوئی معنے نہیں۔اکیلے میں ہے بعض لوگ دشمنی کا بدلہ لینا ہو تو تقوی کا نام لے کر جس سے دشمنی ہو گی اس کے خلاف شور مچانا شروع کر دیں گے کہ اس نے فلاں کا حق مار لیا۔لیکن اگر جماعتی معاہدہ ہو گا تو نگرانی بھی ہوتی رہے گی اور باقی ساتھی اس شخص کو جو اس عہد سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مخالفوں میں کو ذلیل کرنا چاہے گا پکڑیں گے کہ تم نے تو اس عہد کو اُلٹا غصہ نکالنے کا ذریعہ بنالیا ہے اور اس طرح جماعت روک بن جائے گی اُس کے غلط استعمال میں۔پس کچھ لوگ چانہیں جو یہ معاہدہ ہے کریں کہ اس معاملہ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے ، مظلوموں کو اُن کے حق دلوائیں گے ، دیانت، امانت ، عدل اور انصاف کو قائم کریں گے۔پس میں نے یہ بات آج خطبہ میں بیان کر دی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک میری ہے جسمانی اولاد مراد ہے تو پھر بھی یہ بڑی رحمت ہے اور خدا فرماتا ہے کہ جو اِس طرح کریں گے وہ تباہ نہیں ہوں گے اور اُن پر خدا کے فضل نازل ہوں گے۔اور اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی روحانی اولاد مراد ہو تو چاہیے کہ جماعت کے چند آدمی یہ معاہدہ کریں کہ وہ نہ خود کسی کا حق ہے ماریں گے اور نہ کسی کو مارنے دیں گے اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنے میں شامل ہونے کی تحریک کریں۔اگر جماعت اس پر پورا پورا عمل کرے تو چند سالوں کے اندر ہی امانت اور دیانت اور عدل و انصاف لوگوں کے دلوں میں قائم ہو جائے۔پس میں نے اپنے فرض سے یہ کہہ کر سبکدوشی حاصل کرلی ہے کہ مخطبہ میں اس کا اعلان کر دیا ہے۔بجائے اس کے کہ میں ہے قادیان جاؤں یا لڑکے یہاں آئیں، میں نے فوراً اِس کا بیان کر دینا ضروری سمجھا۔کیونکہ یہ پیغام ایسا نہیں کہ میں ایک دن کی بھی اس میں دیر کروں۔بلکہ میں اس میں دیر کرنا ہے