خطبات محمود (جلد 25) — Page 454
خطبات محمود 454 $1944 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی گئیں اور تم خاموشی سے بیٹھ کر ان گالیوں کو سنتے رہے ؟ حضرت خلیفہ اول اُس وقت آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔وہ جماعت کے ایک بڑے آدمی تھے مگر وہ بھی سر ڈالے بیٹھے رہے۔آپ بار بار فرماتے تمہاری غیرت نے یہ کیونکر برداشت کرلیا کہ تم اُس جگہ پر بیٹھے رہو جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک ہو رہی ہے۔تب مولوی محمد احسن صاحب امروہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور جس طرح حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک ناراضگی کے الفاظ کہے تھے کہ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبَّا وَبِالْإِسْلامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا إِى قسم کے الفاظ اُنہوں نے کہے اور پھر کہا حضور ! ذہول ہو گیا۔یعنی ہر آدمی سے بعض موقعوں پر غلطی ہو جاتی ہے ہم سے بھی ذہول کے ماتحت یہ غلطی ہوئی ہے، حضور در گزر فرمائیں۔آخر بہت دیر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا غصہ فرو ہوا اور آپ نے اس غلطی کو معاف فرمایا۔پھر ہم دیکھتے ہیں بعض لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ذرا ان سے کوئی بڑا آدمی ملنے می کے لیے آجائے تو ان کی سب غیرت جاتی رہتی ہے اور وہ اُس بڑے آدمی کے آنے میں ہی اپنی عزت سمجھنے لگتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہمارے لیے یہی بہت بڑی عزت ہے کہ ہمیں فلاں قوم کا لیڈر یا فلاں جماعت کا سردار ملنے کے لیے آیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جس قدر غیرت پائی جاتی تھی اُس کا ثبوت اس واقعہ سے بھی ملتا ہے جب پنڈت لیکھرام آپ سے ایک دفعہ ملنے کے لیے آیا۔میں تو اُس وقت چھوٹا تھا اس لیے مجھے تو یہ واقعہ یاد نہیں لیکن جو آدمی اُس وقت موجود تھے وہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں۔اور یہ واقعہ ایسا ہے جو بار بار چھپ بھی چکا ہے کہ لاہور یا امر تسر کے سٹیشن پر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام موجود تھے کہ پنڈت لیکھرام آپ سے ملنے کے لیے آیا۔ہماری جماعت اب بھی چھوٹی سی ہے مگر اس وقت تو بہت ہی چھوٹی تھی۔آریوں سے مقابلہ رہتا تھا اور آریہ وہ تھے جن کی تعداد اور دولت کا مقابلہ ہماری جماعت اس وقت کر ہی نہیں سکتی تھی۔ان آریوں کا لیڈر پنڈت لیکھرام اتفاقا سٹیشن پر امین