خطبات محمود (جلد 25) — Page 455
$1944 455 خطبات محمود آ نکلا اور جب اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تو وہ آپ کی طرف آیا اور آکر سلام کیا۔مگر آپ نے اُس کے سلام کا کوئی جواب نہ دیا۔شیخ رحمت اللہ صاحب جو لاہور کے مشہور تاجر تھے انہوں نے جب دیکھا کہ پنڈت لیکھرام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سلام کرنے کے لیے آیا ہے تو انہوں نے اپنے دل میں فخر محسوس کیا کہ آریوں کا ایک لیڈر آپ کو سلام کرنے کے لیے آیا ہے۔مگر جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پنڈت لیکھرام کو دیکھا نہیں۔پنڈت لیکھرام نے بھی یہی سمجھا کہ مجھے جو آپ کی طرف سے سلام کا جواب نہیں ملا تو اِس کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے مجھے دیکھا نہیں۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ میں آپ کو سلام کرنے کے مے لیے آتا اور آپ سلام کا جواب تک بھی نہ دیتے۔چنانچہ وہ دوسری طرف سے مُڑ کر آیا اور کہنے لگا مر زا صاحب! سلام۔لیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر بھی جو اب نہ دیا۔تب وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے انہوں نے سمجھا کہ عزت افزائی کا یہ اتنا بڑا موقع کیوں ضائع ہو کہ آریوں کا ایک لیڈر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلام کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ اس سے بڑی عزت اور کیا ہو سکتی ہے کہ مخالف قوم کا ایک لیڈر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں آتا ہے اور حاضر ہو کر سلام عرض کرتا ہے۔چنانچہ رحمت اللہ صاحب آگے بڑھے اور اُنہوں نے کہا حضور نے ملاحظہ نہیں فرمایا، پنڈت لیکھرام صاحب حضور کو سلام کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے جوش سے فرمایا شیخ صاحب! میں نے دیکھ لیا ہے لیکن وہ شخص جو میرے آقا کو گالیاں دیتا ہے کیا اسے شرم نہیں آتی کہ وہ مجھے جو اس کا ایک ادنی خادم ہوں آکر سلام کرتا ہے !! یہ ایسے واقعات نہیں جو صرف ایک دو ہوں۔بلکہ یہ متعدد واقعات ہیں اور بار بار ہم نے دیکھے ہیں۔ان واقعات کو دیکھنے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھلا ہمارے جذبات اور دوسرے لوگوں کے جذبات آپس میں مل ہی کس طرح سکتے ہیں۔