خطبات محمود (جلد 25) — Page 453
$1944 453 خطبات محمود پہلے ہماری جماعت میں شامل تھے مگر بعد میں پیغامی ہو گئے اور پھر پیغامیوں سے بھی علیحدہ ہو کر دوسرے مسلمانوں سے جاملے ان کو تاریخ کا بہت ہی شوق تھا اور انہوں نے اسی علم میں اپنی تمام عمر گزار دی اور پھر اس میں ایسی ترقی کی کہ وہ ہندوستان کے مشہور مؤرخوں میں سے سمجھے جانے لگے اور تمام ہندوستان میں مشہور ہو گئے۔وہ اُس وقت میرے پاس ہی بیٹھے تھے۔جب میں اٹھنے لگا تو انہوں نے مجھے روک لیا۔حضرت خلیفہ اول اُس وقت خلیفہ نہ تھے کیونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا واقعہ ہے۔لیکن بہر حال انہیں جماعت میں ہے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ان کا ذکر کر کے اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی مجھے کہنے لگے مولوی صاحب تو یہاں بیٹھے ہیں اور آپ اُٹھ کر باہر جارہے ہیں۔اگر یہ غیرت کا مقام ہوتا تو کیا مولوی صاحب کو غیرت نہ آتی؟ میں نے کہا کچھ ہو مجھ سے تو یہاں بیٹھا نہیں جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ سخت کلامی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔وہ کہنے لگے آپ کو کم سے کم نظام کی تو اتباع کرنی چاہیے۔مولوی صاحب اِس وقت ہمارے لیڈر ہیں اس لیے جب تک وہ بیٹھے ہیں اُس وقت تک نظام کی پابندی کے لحاظ سے آپ کو اُٹھ کر باہر نہیں جانا چاہیے۔اُن کی یہ بات اُس وقت کے لحاظ سے مجھے معقول معلوم ہوئی اور میں بیٹھ گیا۔جب ہم واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو مجھے یاد ہے آپ کو اس قسم کا غصہ پیدا ہوا کہ ویسا غصہ آپ میں بہت ہی کم دیکھا گیا ہے۔آپ بار بار فرماتے دوسرے مسلمان تو مردہ ہیں اُن کو کیا علم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا شان ہے؟ لیکن ہم نے تو اس طرح اسلامی تعلیم کو کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل اور آپ کے کمالات کو روشن کیا ہے کہ اس کے بعد یہ تعلیم ہی نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری جماعت کو یہ معلوم نہیں تھا کہ رسول کریم ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا شان ہے۔آپ نے فرمایا تمہیں تو ایک منٹ کے لیے بھی اس جگہ پر بیٹھنا نہیں چاہیے تھے۔بلکہ جس وقت اُس نے یہ الفاظ کہے تھے تمہیں اسی وقت کھڑے ہو جانا چاہیے تھا اور اُس ہال سے باہر نکل آنا چاہیے تھا۔اور اگر وہ تمہیں نکلنے کے لیے راستہ نہ دیتے تو پھر اُس ہال کو خون سے بھرا ہوا ہونا چاہیے تھا۔یہ کیونکر تم نے بے غیرتی دکھائی ؟