خطبات محمود (جلد 25) — Page 452
$1944 452 خطبات محمود شریک ہوئے۔اور دو تین سو مسلمان جو تقریریں سننے کے لیے آئے۔وہ بھی در حقیقت ہماری وجہ سے ہی آئے تھے کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ اس جلسہ میں چونکہ اسلام کی طرف سے بھی مضمون پڑھا جانے والا ہے اس لیے ضروری ہے کہ یہ مضمون سب پر غالب رہے اور باقی مذاہب اپنی تعلیموں میں اسلام کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکیں۔غرض آریہ سماج کے اس جلسہ کی کامیابی محض ہماری وجہ سے تھی۔اگر ہماری جماعت کا چھ سات سو آدمی اس جلسہ میں شریک نہ ہے ہوتا اور اگر ہمارا مضمون جو اسلام کی صداقت اور اس کی تائید میں تھا، سُننے کے لیے دو تین مسلمان نہ آتے تو آریہ سماج کا یہ جلسہ نہایت ہی بے رونق ہوتا اور کسی کو اس کی طرف ذرا بھی توجہ پیدا نہ ہوتی۔جلسہ شروع ہوا اور مختلف لوگوں نے اپنے اپنے مذاہب کے متعلق تقریریں کیں۔جہاں تک اس بات کا تعلق تھا کہ کسی مذہب کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جو اس مذہب کے پیرؤوں کے لیے دل شکنی کا باعث ہو، عیسائیوں اور سناتنیوں وغیرہ نے اس کا لحاظ رکھا اور انہوں نے اپنے مضامین میں ایسی کوئی بات نہ کہی جو مسلمانوں کے لیے دل آزاری ہے کا باعث ہوتی۔آریہ سماج نے اپنا مضمون سب سے آخر میں رکھا ہوا تھا۔درمیان میں ایک مقام پر پروگرام کے مطابق جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی مضمون پڑھ کر سنادیا گیا۔آخر آریہ سماج کی باری آئی اور وہی ڈاکٹر صاحب جنہوں نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو یقین دلایا تھا کہ اس جلسہ میں کسی مذہب کے پیرؤوں کی دل شکنی نہیں کی جائے گی اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جائے گی جو مسلمانوں یا دوسری اقوام کے لیے دل آزار ہو مضمون پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے اور انہوں نے بجائے آریہ سماج کی خوبیان بیان کرنے کے اپنا رُخ اسلام کی طرف پھیر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ) ڈاکو اور فریبی اور اسی طرح کے اور نہایت ہی گندے اور ناپاک الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیے۔شدید سے شدید دل شکنی جو ہو سکتی تھی انہوں نے کی اور شدید سے شدید دل آزاری جو وہ کر سکتے تھے اس سے انہوں نے دریغ نہ کیا۔مجھے یاد ہے میری عمر اس وقت سترہ سال کی تھیمگر میں اس بد گوئی کو برداشت نہ کر سکا اور میں نے کہا میں تو ایک منٹ کے لیے بھی مچی اس جلسہ میں نہیں بیٹھ سکتا میں یہاں سے جاتا ہوں۔اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی جو