خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 443

$1944 443 خطبات محمود سال دو سال میں ہزاروں کی تعداد میں احمدی ہو گئے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان سے باہر مخالفت نہیں۔یہاں رقابت ہے۔بجائے اس کے کہ لوگ خوش ہوں کہ ہم میں سے نبی آیا، اُلٹا مخالف ہورہے ہیں کہ ہم میں سے کیوں آیا۔خدا تعالیٰ رسولوں کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم مین آنفسِسٹم کے رسول بھجواتے ہیں۔مگر لوگ کہتے ہیں کہ ہم میں سے کیوں ہیں رسول آیا۔لیکن اگر باہر سے آتا ہے تو کہتے ابعث اللهُ بَشَرًا نَسُولًا 2 کیا بشر کو اللہ تعالی نے ان رسول بنا کر بھیج دیا؟ گویا عرب اس پر خوش نہ تھے کہ عربوں میں سے ایک رسول آیا ہے بلکہ وہ اس بات پر بھی خوش نہ تھے کہ انسانوں میں سے رسول آئے۔گویا گھوڑا یا بیل رسول ہو کر آسکتا تھا لیکن انسانوں میں سے کوئی اس کا مستحق نہیں تھا کہ ان میں سے رسول آئے۔یہی حال آجکل ہندوستانیوں کا ہے۔پس رقابت کا لبعض ہندوستان میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔جب کسی کو تبلیغ کی جائے تو گاؤں کے لوگ عام طور پر کہہ دیتے ہیں کہ اجی ہندوستان میں ہی خدا نے رسول بھیجنا تھا؟ مکہ میں آجاتا یا قاہرہ میں آجاتا ہندوستان میں کیوں آیا؟ گویا وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا اتنا مقہور اور اتنا مطرود سمجھتے ہیں کہ وہ اس کی کسی بھی نعمت کے مستحق نہیں۔لیکن بیرونِ ہند میں ایسا نہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی طرف توجہ فرمائی ہے۔اس لیے وہ ہماری تبلیغ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور سچائی کو صرف توجہ ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔جب لوگ توجہ ہے کرتے ہیں تو گو سارے تو نہیں لیکن ستر اسی فیصدی شکار ہو جاتے ہیں۔باہر کے لوگوں پر یوں بھی ہندوستان کا اثر ہے۔اول تو اِس لیے کہ یہاں بہت سے مسلمان ہیں۔دوسرے اِس لیے کہ آخری حکومت یہاں پر مسلمانوں کی تھی۔تیسرے انگریزوں کی بڑائی کا جہاں کہیں ذکر آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی وجہ سے ان کی عظمت بڑھی ہے اور ہندوستان کو انگریزوں می کے تاج کاہیر اسمجھا جاتا ہے۔اس لیے جب بھی مسیح موعود کا نام لو تو باہر کے لوگ یہ نہیں کہتے کہ ہندوستان میں مسیح کیوں آیا۔اور مبلغ کو حقارت سے نہیں دیکھتے۔بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان واقعی بڑا ملک ہے، وہاں بڑی کثرت سے مسلمان ہیں اس لیے وہاں خدا تعالیٰ کا مامور آئے تو تعجب کی بات نہیں ہے۔جب یہ خیال اُن کو آتا ہے تو وہ سلسلہ کی باتیں سنتے اور