خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 444

خطبات محمود 444 $1944 وہ لٹریچر پڑھنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔اُن کو یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سنیں کیوں۔بلکہ و صرف یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ہم مانیں کیوں؟ تم دلائل دو ہم سننے کے لیے تیار ہیں۔اس وجہ سے دیکھا گیا ہے کہ بیرونی ممالک میں جہاں بھی احمد ی گئے ہیں کثرت سے اور بہت جلدی احمدیت پھیلی ہے اور ان میں اخلاص پایا جاتا ہے۔یہاں کی آبادی کی کثرت نے لوگوں کے خیالات کو خراب کر دیا ہے۔شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر با اتنی بڑی آبادی کو پڑھانا مشکل ہے۔لیکن دوسرے ملکوں میں آبادی کم ہے۔حکومت کی ذرا سی توجہ سے لوگ تعلیم یافتہ ہو جاتے ہیں۔اس وجہ سے جتنا بھی لٹریچر اُن تک پہنچے وہ پڑھ لیتے ہیں۔مصری یا افریقن جماعتوں کی قربانی کے متعلق جو خبریں آئی ہیں، وہ ہندوستان کی بہت سی جماعتوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ان میں باوجو د وحشی ہونے کے پھر بھی تعلیم کا چر چا اور ذوق و شوق زیادہ ہے۔جب حکومت اعلان کرتی ہے کہ علم سیکھنا چاہیے تو خواہ وہ علم حاصل نہ کر سکیں اُن کو ذوقِ مجالس پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہر مجلس میں پہنچ جاتے ہیں۔اس لیے اُن کے اندر علم کی اہمیت قائم ہے اور ہمارے ملک میں جہالت کی اہمیت قائم ہے۔اگر ہم تبلیغ کریں تو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا اس سے کیا تعلق؟ یہ تو پڑھے لکھے لوگوں کی باتیں ہیں۔لیکن بیرونِ ممالک میں یہ نقطہ نگاہ لیتے ہیں کہ اگر ہم کتابیں نہیں پڑھ سکتے تو مبلغ کی مجلس میں پہنچ کر ہی اُس کی باتیں سن لیں۔اسی طرح وہاں علم کا غلبہ ہے تو یہاں جہالت کا غلبہ ہے اور اسی وجہ سے ہندوستانی چاہے پڑھا لکھا بھی ہو پھر بھی وہ ہماری باتیں سننے سے انکار کر دیتا ہے۔ان حالات کے ماتحت گو احمدیت کی ترقی کے سامان باہر زیادہ ہیں مگر ساتھ خطرات بھی زیادہ ہیں۔اگر وہاں جماعت زیادہ ہو گئی تو احمدیت کی تعلیم خطرہ میں پڑ جائے گی۔جیسا کہ مسیح ناصری کے زمانہ میں ہوا کہ عیسائیت اپنے مرکز سے نکل کر روما چلی گئی۔جب تک اپنے مرکز میں تھی اس میں شریعت کا ادب تھا۔مسیح کو خدا کا نبی مانتے تھے لیکن جب روم میں گئی جو ہے کفر کا مرکز تھا تو مذہب کی اہمیت جاتی رہی اور کفر کے نقش و نگار چڑھنے شروع ہوئے ہیں