خطبات محمود (جلد 25) — Page 406
خطبات محمود 406 $1944 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کی تکمیل کے لیے ہے اس سے علیحدہ کوئی چیز نہیں اور کوئی نیاد عوامی نہیں ہے۔لیکن دوسری قسم کا مدعی اُس وقت مبعوث کیا جاتا ہے جب قوم میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔پسر موعود نے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی صداقت پیش کرنی اور آپ کے مقاصد کی تکمیل کرنی ہے۔اس لیے اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ جماعت میں کسی خرابی کی تلاش کی جائے۔جہاں تک اس کے نام مصلح موعود کا تعلق ہے وہ غیر احمدیوں کے لیے ہے۔ان لوگوں کے لیے جو یہ سمجھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔مصلح موعود اُن کے اِس خیال کو غلط ثابت کرے گا اور سلسلہ کو پہلے سے بہت زیادہ طاقت ، شوکت اور وسعت دے گا اور ان لوگوں کی اصلاح کر کے انہیں احمدیت میں داخل کرے گا۔گویا وہ اِس طرح کا مصلح موعود نہ ہو گا جو کسی جماعت کے بگڑ جانے کے بعد اُس کی اصلاح کے لیے آتا ہے۔کیونکہ اس قدر قریب نبی کے بعد اُس کی جماعت نہیں بگڑا کرتی۔اگر اس قدر جلدی نبیوں کی جماعتیں بگڑ جائیں تو دوسروں کو مومن کون بنائے۔ہر نبی اپنے بعد ایک مومن جماعت چھوڑ کر جاتا ہے جو اُس کے کام کو جاری رکھتی ہے اور ایک عرصہ تک صداقت پر قائم رہتی ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ ادھر نبی فوت ہو اور اُدھر اُس کی جماعت مرتد ہو جائے۔اگر کوئی جماعت کسی مدعی کی وفات کے معابعد مرتد ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی جماعت نہیں ہو سکتی اور نہ اس کا بانی خدا کی طرف سے ہو سکتا ہے۔نبی کی جماعت ایک عرصہ تک صداقت پر قائم رہتی ہے اور ترقی کرتی ہے۔پھر اس میں کمزوری پیدا ہوتی ہے اور وہ اصلاح کی محتاج ہو جاتی ہے۔اس سے نبی کی صداقت پر کوئی حرف نہیں آتا۔لیکن اگر اُس کی جماعت ابتدا میں ہی بگڑ جائے اور صداقت سے روگرداں ہو جائے تو اُس سے اس کی صداقت قائم نہیں رہ سکتی۔اگر گٹھل سے پودا نکلے جو سال دو سال کے بعد جل جائے تو اُس کے متعلق یہ نہیں کہا جائے گا کہ اپنی عمر کو پہنچ کر ختم ہوا۔لیکن اگر وہ بڑھا، پھولا اور اس نے پھل دیا اور پھر سوکھ گیا تو اس کے کامیاب ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔اسی طرح وہ جماعت جس میں کوئی نبی آئے اُس کی نسلیں چلیں اور ٹھیک و درست راستہ پر چلیں، پھل دیں اور بعد میں گندی ہو جائیں تو یہ کوئی قابل اعتراض ہے