خطبات محمود (جلد 25) — Page 401
$1944 خطبات محمود 401 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے اور آپ پر ایمان لانے والوں کی تربیت کرنا بھی بے حد مشکل ہے۔عربوں کے لیے عربی جاننے کی وجہ سے دین سیکھنے میں بہت آسانی تھی۔جب تک ہے اُن کے سامنے یہ سوال ہو تا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بچے اور راستباز ہیں یا نہیں، قرآن خدا کا یہ کلام ہے یا نہیں، اُس وقت تک اُن کے لیے مشکل ہوتی تھی۔لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اُن پر واضح ہو جاتی اور وہ آپ پر ایمان لے آتے اور یقین کر لیتے کہ قرآن کریم خدا تعالی کا کلام ہے تو پھر قرآن کریم ان کے لیے بالکل کھلی ہوئی کتاب ہوتی اور مین رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات سمجھنا بالکل آسان ہوتا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے اور آپ جو کچھ فرماتے وہ عربی زبان میں بیان فرماتے ہے اور سننے والے بآسانی اسے سمجھ لیتے اور اس کے مطابق اپنے عقائد اور اعمال بنا لیتے اور اپنی اصلاح کرتے ہوئے روحانی مدارج حاصل کرتے جاتے۔اس طرح اُن کے لیے کس قدر آسانی تھی۔اسی طرح یہود کی زبان عبرانی تھی اور اُن میں جو انبیاء آئے وہ عبرانی میں باتیں کرتے تھے اور عبرانی میں ہی دین کی تعلیم دیتے تھے، اسی زبان میں اُن کی مقدس کتا بیں تھیں۔مگر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ایک نیا طریق جاری کیا اور وہ یہ کہ عرب میں ایک ایسا نبی بھیجا جو ساری دنیا کے لیے تھا اور دنیا کی ساری زبانیں بولنے والے لوگوں کے لیے تھا۔عرب اس کے پہلے مخاطب تھے اور عربوں نے خدا تعالیٰ کے اس انعام اور فضل کی جو قدر کی اور اس کے لیے جس قدر قربانیاں کیں کسی اور قوم میں اس کی مثال نہیں ملتی۔مگر 50 ،60 سال سے زیادہ عرصہ تک عربوں کے پاس حکومت نہ رہی۔بنو امیہ کی سوسال تک حکومت رہی۔وہ خالص عرب تھے اور عربوں کی پرورش بھی کرتے رہے مگر انہوں نے عرب کو چھوڑ کر اپنا مرکز دمشق کو بنالیا۔بنو عباس بھی عرب تھے مگر انہوں نے مرکز کے طور پر بغداد کو چنا اور ان پر عجمی اثر اتنا غالب تھا کہ عرب سے اُن کا تعلق نہ رہا۔انہوں نے اکثر اپنے وزراء اور می جرنیل بھی بجھی مقرر کیے۔غرض جہاں تک قومی حکومت کا تعلق ہے عربوں کا اس قدر جلدی میں منزل ہوا کہ شاید ہی کسی اور قوم کا ہوا ہو۔جہاں نہایت قلیل عرصہ میں عربوں کی ترقی کی ہے پر