خطبات محمود (جلد 25) — Page 400
خطبات محمود 400 $1944 مذاہب ہیں جن کا یا تو ہندستان مرکز ہے یا پھر وہ باہر سے ہندوستان میں آگئے ہیں۔اس لیے اس زمانہ میں ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں اسلام اور غیر مذاہب کی مکمل جنگ ہو سکتی تھی۔ادھر ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو عربی زبان سے بالکل بے بہرہ ہے۔اگر کوئی محنت اور کوشش کر کے قرآن کریم اور احادیث پڑھ لے تو اور بات ہے ورنہ پنجابی جاننے والے، بنگالی جاننے والے ، مرہٹی جاننے والے، تلنگو جاننے والے اور ہندوستان کی دوسری زبانیں جاننے والے عربی زبان سے بہت دور ہیں کیونکہ یہ زبانیں عربی سے بہت دور ہیں۔البتہ اردو کسی قدر عربی زبان کے قریب ہے۔ان حالات میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے مسلمان دینِ اسلام سیکھنے کی آسانی میں سب سے پیچھے ہیں۔بے شک چین میں بھی مسلمان پائے جاتے ہیں اور وہاں بھی ان کی کروڑوں کی تعداد ہے مگر پھر بھی ہندوستان کے می مسلمانوں کی تعداد کے برابر اُن کی تعداد نہیں اور نہ اور مذاہب کے لوگ مثلاً جینی، پارسی اور ہند و وہاں پائے جاتے ہیں۔اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنا مامور اس ملک میں بھیجا جو سارے مذاہب کا مرکز ہے اور وہ ہندوستان ہے۔مگر ہمارے لیے سب سے زیادہ مشکل یہ ہے کہ بڑی محنت سے اور بڑی کوشش سے دین کی واقفیت حاصل ہو سکتی ہے۔ورنہ زبان سے تعلق رکھنے والی جو آسانیاں ہوتی ہیں وہ ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کو حاصل نہیں ہیں۔نہ تو عرب سے ہندوستان کی سرحد ملتی ہے، نہ عربی تمدن ہندوستان میں پایا جاتا ہے، نہ ہندوستان کے لوگ عربی زبان جانتے ہیں۔بلکہ ایسی زبانیں جانتے ہیں جو کسی وقت گو عربی زبان سے ہی نکلی ہوں کیونکہ عربی زبان انظم الانسہ ہے۔مگر اس وقت ان زبانوں کا عربی سے اتنا بعد ہو چکا ہے کہ گویا ہے عربی سے ان کا بھی جوڑ ہوا ہی نہیں تھا۔مرہٹی اور گجراتی زبانوں کے لہجے اور مالا باری اور تانگو میں زبان کے الفاظ عربی زبان کے سامنے رکھے جائیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا کوئی تعلق عربی زبان سے ہے۔"ڑ" اور "ڈ" کا اِن میں اتنا زور ہوتا ہے کہ عربی سے ان کا کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔اس وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ ہندوستان میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پیش کرنے میں اور آپ کے سلسلہ کی اشاعت کرنے میں اور ہے مشکلات ہیں وہاں زبان عربی سے لوگوں کا ناواقف ہونا بھی بہت بڑی مشکل ہے۔اسی طرح