خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 397

خطبات محمود 397 $1944 سو دو سو روپیہ چندہ آ بھی گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اُس نے اپنا فرض ادا کر دیا۔پس میں جماعتوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں۔اب معلوم ہوتا ہے کہ پہلا قربانی کا معیار ہو چکا ہے اور وقت آگیا ہے کہ اگر سلسلہ کا موجودہ بار اٹھانا ہے تو جماعت ایمان کا معیار بڑھائے۔ایمان کے سابق معیار پر اب جماعت نئے بوجھوں کو نہیں اٹھا سکتی۔1944ء کا احمدی 1943ء کے احمدی سے ایمان میں بڑھے گا تب وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے گا ور نہ ناکام ہو کر ذلت کا منہ دیکھے گا۔پس دوستوں کو چاہیے کہ نئے ارادے اور نئے عزائم پیدا کریں ورنہ خطرہ ہے کہ خدا نخواستہ 1922ء والی حالت نہ ہو جائے۔جبکہ صدر انجمن ایسی مقروض ہو گئی تھی کہ کئی سالوں تک سخت مشکلات میں کام کرنا پڑا اور کئی سال تک یہ بوجھ نہ اتر سکا۔مگر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ 1922 ء کا احمدی وہ نہ تھا جو 1944ء کا ہے اور آج کا ایمان 1922ء کے ایمان سے بہت زیادہ ہے۔مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ یقین ہے کہ ویسی حالت پھر نہ ہو گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے احمدیوں سے اس سال ایک نیا عہد لیا ہے۔خدا تعالیٰ دوستوں کو توفیق دے کہ وہ اپنے ایمان کے اونچے معیار کے مطابق قربانی کے معیار کو بھی بلند کر سکیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عمده یعنی مومن کی نیت اس کے عمل سے اونچی ہوتی ہے۔اس کے مطابق خدا تعالیٰ ہے جماعت کو قربانیوں کے معیار کو بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا قربانی کا جو موقع بھی آئے ہے ہمارے دلوں کی خواہش ہمیشہ ہماری قربانی سے بالا ہو"۔(الفضل 15 جون 1944ء) 1 : بخاری کتاب الاحكام بَاب قَوْلِ الله تَعَالى أَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ 2 : الاعراف: 180 4 : كُلُوا مِنْ ثَمَرِةٍ إِذَا أَثْمَرَ وَأَتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ (الانعام : 142) : المعجم الكبير جلد 6 صفحہ 228 مطبوعہ عراق 1979ء میں یہ الفاظ حضر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں۔