خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 370

$1944 370 خطبات محمود میرے سامنے پیش کرے اور پھر اپنے ڈاک کے رجسٹروں سے یہ ثابت کرے کہ اُس نے ان سب کے نام چٹھیاں بھجوا دی تھیں۔اس کے بعد وہ مجھ سے ایک تاریخ مقرر کروا کر الفضل میں اعلان شائع کرا دے کہ یہ لوگ فلاں تاریخ کو میرے سامنے ایک مجرم کی حیثیت میں پیش ہوں اور جواب دیں کہ کیوں نہ اُن کو اس جرم کی وجہ سے جماعت سے خارج کر دیا جائے۔میں اس موقع پر ان لوگوں کو جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے وقف کی ہوئی ہیں ایک بار پھر یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ دیکھو زندگی وقف کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم نے اپنی جان دین کے لیے دے دی۔میں نے متواتر سمجھایا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے آپ کو چی وقف کر دیتا ہے تو اس کے بعد اُس کا کوئی باپ نہیں ہوتا سوائے سلسلہ کے، کوئی ماں نہیں ہوتی سوائے سلسلہ کے ، کوئی بہن نہیں ہوتی سوائے سلسلہ کے ، کوئی بھائی نہیں ہوتا سوائے سلسلہ کے، کوئی بیوی نہیں ہوتی سوائے سلسلہ کے ، کوئی بچے نہیں ہوتے سوائے سلسلہ کے۔اس وقف کے معنے یہ ہیں کہ وہ دنیا سے کٹ گیا۔مگر میں دیکھتا ہوں ابھی تک برابر مائیں اِس قسم کے رقعے لکھتی رہتی ہیں کہ ہمارے بچوں کا خیال رکھا جائے ، باپ رقعے لکھتے رہتے ہیں کہ ہمارے بیٹوں کا خیال رکھا جائے بلکہ ابھی ایک واقف زندگی کے باپ نے مجھے لکھا کہ میرے بیٹے نے چونکہ فلاں وقت اپنی زندگی وقف کی تھی اس لیے اسے فلاں جگہ رکھا جائے۔وہ اپنے آپ کو باپ سمجھتا ہو گا مگر ہم تو اُسے اِس لڑکے کا باپ سمجھتے ہی نہیں۔جس دن اُس نے اپنے یٹے کو دین کے لیے وقف کر دیا اُس کے بعد اس کا کوئی حق نہیں رہا کہ وہ اپنے بیٹے کے متعلق سے کوئی بات کہے۔اگر کوئی باپ ایسا رقعہ بھیجتا ہے تو ہم اسے پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں اور پروا بھی نہیں کرتے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔لڑکا اگر کچھ کہنا چاہتا ہے تو بے شک کہے۔اگر لڑکا کوئی ایسی بات کہے گا جو اُس کے حقوق سے تعلق رکھتی ہو گی اور ہم سمجھیں گے کہ وہ چیز اس کے وقف میں روک نہیں تو اُس کا مطالبہ پورا کر دیا جائے گا۔اور اگر کوئی ایسی بات کہے گا جو اُس کے وقف کے خلاف ہو گی تو اسے مجرم سمجھا جائے گا۔بہر حال کسی واقف زندگی کے باپ یا ماں یا بھائی یا بہن یا بیوی یا بچے کا کوئی حق نہیں کہ وہ وقف کے متعلق ہم سے کوئی بات کرے۔اگر کوئی ایسا رقعہ لکھے گا تو ہم اسے پھاڑ دیں گے۔اور اگر وہ کوئی بات کرے گا تو ہم اسے سنے ہے