خطبات محمود (جلد 25) — Page 298
$1944 298 خطبات محمود ہو جائے گا۔کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض اور آپ کے اخلاق پر حملہ کرنے والا ہو گا۔بلکہ خود قرآن کریم پر حملہ کرنے والا ہو گا جس نے متواتر نہ صرف اہل مکہ بلکہ تمام یہود و نصاری کے خلاف تعلیمات کو پیش کیا ہے اور اس کے نازل ہونے نیز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض یہی ہے۔ہم نے تو اپنے ان جلسوں میں کسی کے عقائد کے خلاف کوئی بات نہیں کہی۔گو ہمارا حق ہے کہ چاہیں تو کہیں۔مگر ہمارے ان جلسوں میں دوسروں پر اعتراض کا کوئی پہلو نہیں۔دہلی میں ہمارے جلسہ کے اعلان کے بعد کئی دن وہاں مختلف مقامات پر ایسے جلسے ہوتے رہے کہ احمدیوں کا یہ جلسہ نہ ہونے دیا جائے اور اشتہار بھی شائع کیے گئے بلکہ حکومت کو بھی توجہ دلائی گئی کہ چونکہ اس جلسہ میں ہمارے عقائد کے خلاف باتیں ہوں گی اس لیے اشتعال پیدا ہو گا۔حالانکہ دنیا کے تمام مذاہب کا ایک دوسرے سے اختلاف ہے اور کوئی نیا فرقہ اور نئی جماعت تو قائم ہی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اُسے دوسروں سے اختلاف ہوتا ہے۔مسلمان اپنے کو مسلمان کیوں کہتے ہیں؟ اسی لیے کہ انہیں ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں وغیرہ دیگر مذاہب کے لوگوں سے اختلاف ہے؟ اور اگر یہ اختلاف ناجائز ہے تو تمام مذاہب کو مٹادینا ہو گا اور دنیا میں کبھی کوئی صداقت نہ پھیل سکے گی۔بہر حال وہ لوگ پہلے سے ہی ہمارے جلسہ کے خلاف جوش پیدا کر رہے تھے اور اسے خراب کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔یہ مسلمانوں کا عام طریق ہے بلکہ ہندوستان میں قریباً سب قوموں کا یہی طریق ہے۔حتی کہ کانگرس والے بھی ایسا کرتے ہیں کہ جب کوئی جلسہ ان کے خلاف ہونے والا ہو تو کثیر تعداد میں آکر سٹیج پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اپنے زور سے جلسہ کرنے والوں کو نکال دیتے ہیں اور پھر اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے خلاف باتوں کو زبر دستی روک دیا۔اسی نیت اور ارادہ سے مخالفین جلسہ میں آئے۔اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں لیے کچھ سامان بہم پہنچا دیتا ہے۔عزیزم مرزا ناصر احمد صاحب نے تلاوت قرآن کریم شروع کی تو ایک لفظ میں زیر کی جگہ زبر اُن کے منہ سے نکل گئی۔انہوں نے قُرْآنَ الْفَجْرِ 2 کی بجائے قُرانِ الْفَجْرِ کہہ دیا۔بس یہ الفاظ ان کے منہ سے نکلنے تھے کہ یہ لوگ جو منتظر ہی تھے کہ شور و غیرہ کرنے کا کوئی موقع مل سکے فورا کھڑے ہو گئے اور شور مچانے لگے ہے