خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 297

خطبات محمود 297 ا $1944 ظاہر ہوتی ہے انہی پر آج دشمنانِ اسلام اعتراض کرتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام کی تعلیم اور قرآن کریم کو تدبر سے پڑھنے کی امید دشمن سے تو کی ہی نہیں جاسکتی۔اگر اُن کو کوئی چیز اسلام کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے تو وہ مسلمانوں کا نمونہ اور عمل ہی ہے۔اور جب مسلمانوں کا عمل اسلامی تعلیم کے خلاف ہو وہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کو نظر انداز کر دیں، ان کا معاملہ، ان کی گفتگو، اُن کے طور طریقے اسلام کی تعلیم کے خلاف ہوں تو دشمنانِ اسلام تو یہ خیال کریں گے کہ اسلام کی یہی تعلیم ہے اور اس زمانہ میں مسلمانوں کی وجہ سے ہی اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں ملتی ہیں۔ایک لمبے تجربہ نے بتا دیا ہے کہ مسلمانوں کا موجودہ طریق عمل کچھ مفید نہیں ثابت ہوا۔اس سے خود اُن کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہو تا۔ان کے جوش و خروش نے اسلام کو کوئی طاقت نہیں بخشی اور ان کے غصہ نے ان کو کچھ آگے نہیں ہے بڑھا دیا اور ان کی وحشت نے دنیا میں ان کی کوئی عزت قائم نہیں کی۔بلکہ کیا سیاسی لحاظ سے، کیا اقتصادی لحاظ سے اور کیا علوم ظاہری و باطنی کے لحاظ سے مسلمان ایک پسپا ہونے والا ہجوم نظر آتا ہے۔مگر افسوس کہ اس بات کو دیکھتے ہوئے بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ہم نے دہلی میں جو جلسہ کیا اُس کی غرض یہی تھی کہ جس بات کو ہم حق سمجھتے ہیں ہم اُسے لوگوں تک پہنچائیں۔اس میں شبہ نہیں کہ وہ لوگ اسے حق نہیں سمجھتے۔لیکن اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ جو بات دوسرے کے نزدیک حق نہ ہو وہ اسے نہ سنانی چاہیے تو پھر مکہ کے لوگوں کو باتیں سنانے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حق نہ تھا اور اہل مکہ کی ناشائستہ حرکات پر قرآن کریم کو کوئی اعتراض نہ کرنا چاہیے تھا۔اور اگر یہ بات درست ہے کہ ہے اپنے عقائد کے خلاف باتیں سنئے سے اشتعال پیدا ہوتا ہے اور اس کا لحاظ کر کے کسی کے عقائد کے خلاف کوئی بات اُسے نہ سنانی چاہیے تو اس قانون کے ماتحت یہ بھی کہنا پڑے گا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حق نہ تھا کہ اہل عرب کو ان کے عقائد اور عادات و اطوار کے خلاف باتیں سناتے۔مگر کوئی مسلمان یہ نہیں سمجھتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا کوئی حق نہ تھا کہ مکہ کے لوگوں کو ان کے عقائد کے خلاف باتیں سناتے۔بلکہ اگر کوئی مسلمان ایک منٹ کے لیے بھی ایسا سمجھے تو وہ اسلام کے دائرہ سے خارج