خطبات محمود (جلد 25) — Page 265
خطبات محمود 265 $1944 ماں باپ اس کے خلاف تھے ، وہ تجھے روکنا چاہتے تھے تو توڑ کا کیوں نہیں۔خدا تعالیٰ یہ سوال کسی سے نہ کرے گا۔بلکہ کہے گا کہ اے شخص! میں نے تجھے مال دیا تھا تو نے اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کیا مگر تیرے ماں باپ یا بیوی بچوں نے اسے روکا اور تیرے رستے میں کھڑے ہو گئے۔پھر بھی توڑ کا نہیں بلکہ میری راہ میں دے دیا۔اب میری جنت تیر امال ہے۔جا اور اس پر قبضہ کرلے۔وہ یہ نہیں کہے گا کہ دین کے لیے زندگی وقف کرنے کے لیے تجھ۔مطالبہ کیا گیا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر آفت آئی ہوئی تھی، اسلام مددگاروں کے لیے چلا رہا تھا تو نے خیال کیا کہ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر دے۔مگر تیرے ماں باپ اور بیوی بچے اس کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ کیوں زندگی کو ضائع کرنے لگا ہے۔تیرے ماں باپ جن کے احترام کا میں نے حکم دیا ہے، تیری بیوی جس کے ساتھ حُسنِ سلوک کا میں نے حکم دیا ہے تجھے روکتے تھے مگر تو پھر بھی نہ رُکا۔تو نے ایسا کیوں کیا اور کیوں ان کی بات نہ مانی۔بلکہ اس کے بر خلاف اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے یہ کہے گا کہ جس وقت اسلام مصیبت میں تھا، جب محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح مدد کے لیے پکار رہی تھی تو آگے بڑھا کہ اسلام کی خدمت کرے۔اس وقت تیرے ماں باپ جنہوں نے تجھے پالا تھا تی اور پڑھایا تھا انہوں نے اپنی ان خدمتوں کا واسطہ دے کر تجھے روکنا چاہا مگر پھر بھی تو نہ رُکا۔اے شخص تو نے میری خاطر ماں باپ کو چھوڑ دیا، بیوی بچوں کی کوئی پروا نہ کی اور رشتہ داروں نے سے قطع تعلق سے نہ ڈرا۔پس آج میں ہوں تیری ماں اور میں ہوں تیرا باپ۔یہی وہ چیز ہے جس کے لیے مومن قربانی کرتا ہے۔بائبل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ ان کی ماں مامتا سے بے قرار ہو کر ان کے پاس پہنچیں تو کسی نے اُس سے کہا دیکھ ! تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔اس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہا کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی"۔3 پھر واقعہ صلیب سے قبل حضرت مسیح علیہ السلام کی ڈور کی ماں اور اُس کی ماں کی بہن مریم، کلو پاس کی بیوی اور مریم مگر لینی کھڑی ہے تھیں۔حضرت مسیح نے اپنی ماں اور اُس شاگرد کو جس سے محبت رکھتا تھا، پاس کھڑے دیکھ کر ماں سے کہا کہ اے عورت! دیکھ تیرابیٹا یہ ہے۔پھر شاگرد سے کہا دیکھ ! تیری ماں یہ ہے اور