خطبات محمود (جلد 25) — Page 266
خطبات محج محمود 266 $1944 اُسی وقت وہ شاگرد اُسے اپنے گھر لے گیا۔4 گویا آپ نے ایک طرف تو یہ کہہ کر خدا تعالیٰ کا حق ادا کر دیا کہ میرے بھائی اور ماں میرا خدا ہے اور اس خیال سے کہ ماں ہونے کی حیثیت سے اُس کا بھی حق ہے میں جب دین کی خاطر پھانسی پا کر اس کی گود کو خالی کر رہا ہوں اور اسے بے کس چھوڑ کر جارہا ہوں تو اس کی دلجوئی کی صورت بھی پیدا کروں۔اور پہلے جو کہا تھا کہ کون ہے میری ماں۔اس کا ازالہ اس طرح کر دیا کہ اپنے شاگرد سے کہا کہ آج سے تو اس کو اپنی ماں کی ہے طرح سمجھنا۔اور ماں سے کہا کہ مجھے اپنے اِس شاگر د پر اتنا اعتماد ہے کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں جو حکم اسے دوں گا اسے پورا کرے گا۔پس آج سے تو اس کو اپنا بیٹا سمجھ کر جو حکم چاہے ہے دے کہ یہ اُسی طرح تیری دلجوئی کرے گا جس طرح میں تیری دلجوئی کر سکتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے مومن کی جان اور مال ہمیشہ حاضر ہوتی ہے۔ہمیں کچھ کچھ معلوم نہیں کہ کہاں سے حملہ کیا جائے گا یا کب اور کس صورت میں کیا جائے گا۔لیکن ہمیں ہر وقت اس کے لیے تیار رہنا چا ہے۔کئی ہیں جو فوری جوش کے ماتحت تو قربانی کے لیے اپنے آپ می کو پیش کر دیتے ہیں لیکن اگر سال دو سال کے بعد مانگا جائے تو پس و پیش کرنے لگ جاتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ ادھر ہمارا کارڈ پہنچے گا اور اُدھر سے مطالبہ آجائے گا کہ لاؤ دے دو۔ایسے لوگ جو فاصلہ کی لمبائی سے غافل ہوتے ہیں ہمیشہ موقع پر پیٹھ دکھانے والے ثابت ہوتے ہیں۔پس مومن کو کبھی غافل نہ ہونا چاہیے اور جب بھی اس سے قربانی کا مطالبہ کیا جائے خواہ وہ سال کے بعد ہو یا دس بیس سال کے بعد اُسے تیار ہونا چاہیے۔جس طرح خدا تعالیٰ کے انعامات کا وقت مقرر نہیں، اُس نے یہ نہیں کہا کہ مجھ سے آج مانگو گے تو دوں گا کل نہیں دوں گا اُس کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اسی طرح مومن کو بھی ہر وقت قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔جس طرح خدا تعالیٰ کی رحمت کا انتظار اور عدم انتظار سے تعلق نہیں اُسے کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے اسی طرح بندہ کو قربانی کے لیے بھی ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔مومن اور مخلص وہی ہے جو دین کی راہ میں قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔جو سمجھتا ہے کہ دین کا نمائندہ اور ذمہ دار میں ہی ہوں وہ دوسروں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ اپنے آپ کو ہی سارے کام کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔جب تک ہر شخص کے دل میں یہ بات راسخ نہیں ہو جاتی کہ