خطبات محمود (جلد 25) — Page 256
$1944 256 خطبات محمود ایسا شخص ہو سکتا ہے جو اس بات کو پسند نہ کرے کہ مال اس کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ اُس کا مال اُس کے قبضہ میں ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر سُن لو۔وہ مال جو تم خدا کے لیے خرچ کرتے ہو وہ تمہارا ہے اور وہ مال جو تم خدا کے لیے خرچ نہیں کرتے وہ تمہارے رشتہ داروں کا ہے۔تم مر جاؤ گے تو تمہارے رشتہ دار آئیں گے اور اُس مال پر قبضہ کر کے لے جائیں گے 8 پس یاد رکھوا وہ زندگی جو تم خدا کے لیے خرچ کرتے ہو وہی تمہاری زندگی ہے۔لیکن وہ زندگی جو تم اپنے نفس کے لیے خرچ کرتے ہو وہ ضائع چلی گئی۔جو شخص خدا کے لیے اپنی زندگی قربان کرتا ہے وہ چاہے کتنی ہی گمنامی کی زندگی بسر کرے، چاہے دنیا میں اُسے کوئی شخص نہ جانتا ہو آسمان پر خدا اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور اُس کو اپنے قرب میں عزت و احترام کی جگہ دیتا ہے۔پس مت خیال کرو کہ دین کے لیے اپنی تم زندگی قربان کر نازندگی کو ضائع کرتا ہے۔یہ زندگی کو ضائع کرنا نہیں بلکہ اسے ایک قیمتی اور ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی چیز بنانا ہے۔صحابہ کو دیکھو۔انہوں نے اپنی زندگیاں دین کے لیے قربان کر دیں۔مگر پھر ایک ا رض ایسا وقت آیا جب اسلام یورپ سے لے کر ایشیا تک پھیل گیا۔اس وقت امراء ہی نہیں اسلام می کے علماء بھی کروڑ پتی بن چکے تھے۔مگر پھر انہی امراء اور انہی علماء نے مل کر ایک ایک صحابی کا نہ لگایا اور اس کے حالات کو کتابوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔یہاں تک کہ وہ عورت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی اُس کا بھی انہوں نے پتہ لگایا اور اس کے حالات زندگی انہوں نے کتابوں میں درج کر دیئے۔کیا تم سمجھتے ہے ہو اگر وہ عورت مدینہ کی بڑی بھاری تاجر ہوتی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیت کا شرف اسے حاصل نہ ہو تا تو یہ عزت اسے حاصل ہو سکتی ؟ اگر وہ کروڑ پتی ہوتی تب بھی کوئی ہے شخص اُس کے حالات سے دلچسپی نہ رکھتا اور آج کسی کو معلوم تک نہ ہوتا کہ مدینہ میں کوئی ہے کروڑ پتی عورت تھی۔لیکن تیرہ سو سال کے بعد آج بھی اس جھاڑو دینے والی عورت کے حالات ہمیں کتابوں میں نظر آرہے ہیں۔جب وہ مر گئی تو ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا حال لوگوں سے پوچھا۔انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ ! فلاں؟ وہ عورت تو ہے