خطبات محمود (جلد 25) — Page 255
خطبات محمود 255 $1944 تاکہ اسلامی مسائل ان کو سمجھائے جاسکیں۔پس وہ لوگ جن کو کچھ کچھ عربی اور کچھ کچھ انگریزی آتی ہو وہ اس غرض کے لیے اپنے نام پیش کریں تاکہ ان کو فوراً افریقہ میں بھجوایا جاسکے۔دیکھو وہ لوگ خرچ بھی کس قدر کفایت سے کرتے ہیں۔ہمارے مبلغ نے لکھا ہے کہ یہاں چالیس روپیہ میں ایک شخص کا گزارہ ہو جاتا ہے اور لکھا ہے کہ اگر چھ مہینے تک جماعت ان 12 مبلغین کا خرچ برداشت کرے تو اس کے بعد مقامی جماعتیں خود اس بوجھ کو اٹھا لیں گی۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے چھ مہینے نہیں سال بلکہ دو سال تک بھی ان کے گزارہ کا انتظام کر سکتا ہوں۔اس کے بعد وہاں کی جماعتیں ان کے اخراجات کا بوجھ خود برداشت کر سکتی ہیں۔بہر حال افریقہ کے ہزاروں لوگ ہمیں پکار رہے ہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کے لیے اُن کے پاس پہنچیں۔سیرالیون جس کا صدر مقام فری ٹاؤن ہے ایک نہایت ہی اہم مقام ہے۔اگر اسلام می وہاں سُرعت کے ساتھ پھیل جائے تو تمام افریقہ پر اس کا اثر ہو سکتا ہے۔اسی طرح گولڈ کوسٹ اور نائیجیریا میں اسلام پھیل جائے تو قریباً تمام مغربی افریقہ فتح ہو جاتا ہے۔وہاں کی مینی ساری آبادی ایک کروڑ ہے اور یہ ایک کروڑ افراد اگر خدا چاہے تو چند سالوں میں ہی احمدی ہو سکتے ہیں اور یہ اتنی بڑی تعداد ہے جو ہماری موجودہ حالت کے لحاظ سے ایک غیر معمولی تعداد ہوگی۔پس میں آج کے خطبہ میں جماعت کے دوستوں کے سامنے یہ دو تحریکیں پیش کرتا ہوں۔میں زیادہ تر وقف زندگی کی تحریک کرنے کے لیے ہی آیا تھا اور یہی وہ امر تھا جس کے لیے میں بیماری کی حالت میں اٹھ کر چلا آیا۔میں کہہ نہیں سکتا کہ اس وقت مجھے بخار - مار ہے یا نہیں۔کیونکہ بولنے کی وجہ سے مجھے اس کی جس نہیں رہی۔لیکن منہ کا ذائقہ خراب ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ شاید بخار ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری جماعت کے افراد کو ایسی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور ان میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ زندگی وہی ہے جو دین کے لیے قربان ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے پو چھا کہ تم کو و و مال پسند ہے جو تمہارے کسی رشتہ دار کے ہاتھ میں ہو یا تم کو وہ مال پسند ہے جو تمہارے اپنے ہاتھ میں ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کون ہے