خطبات محمود (جلد 25) — Page 241
$1944 241 محمود کبھی تبلیغ نہیں ہوئی اور جو قوم یہ مجھتی ہے کہ روپیہ کے ذریعہ وہ اکناف عالم تک اپنی تبلیغ کو پہنچا دے گی اُس سے زیادہ فریب خوردہ، اس سے زیادہ احمق اور اس سے زیادہ دیوانی قوم دنیا میں اور کوئی نہیں۔جس چیز کے ساتھ مذہبی جماعتیں دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں وہ ذات کی ہے قربانی ہوتی ہے نہ کہ روپیہ کی۔تم اگر دنیا میں فتح یاب ہونا چاہتے ہو تو جان دے کر ہو گے۔جس دن تم یہ سمجھ لو گے کہ تمہاری زندگیاں تمہاری نہیں بلکہ اسلام کے لیے ہیں، جس دن سے تم نے محض دل میں ہی یہ سمجھ لیا بلکہ عملاً اس کے مطابق کام بھی شروع کر دیا اُس دن تم کہہ سکتے ہو کہ تم زندہ جماعت ہو۔4 پس اس تحریک کے ابتدا میں ہی میں نے اس کی بنیاد چندہ پر نہیں رکھی بلکہ میں نے اس کی بنیاد آدمیوں پر رکھی تھی۔اور میں نے کہا تھا کہ مجھے وہ آدمی چاہیں جو اپنے دلوں میں ہے اخلاص رکھتے ہوں، جو اپنی جانیں خلیفہ وقت کے حکم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، جو رات اور دن کام کرنے والے ہوں اور جو سمجھتے ہوں کہ ہم نے جب اپنے آپ کو پیش کر دیا تو اس کے بعد موت ہی ہمیں اس کام سے الگ کر سکتی ہے۔زندگی کے آخری لمحوں تک ہم یہی کام کریں گے اور پورے اخلاص اور پوری ہمت اور پوری دیانت سے کریں گے۔جو شخص سمجھتا ہے ہے کہ مجھے جب تبلیغ کے لیے باہر بھجوایا جائے گا اُس وقت میں دیانتداری سے کام لے لوں گا سے پہلے اگر سلسلہ کے کسی اور کام پر مجھے مقرر کیا جاتا ہے تو میرے لیے دیانتداری کی ضرورت نہیں وہ اول درجہ کا احمق اور نادان ہے اور یا پھر دوسروں کو دھوکا اور فریب دینے کے لیے ایسا کہتا ہے۔جو شخص سمجھتا ہے کہ صرف تبلیغ میں دیانتداری کی ضرورت ہے کہ ہے لیکن سلسلہ کے اموال میں وہ دیانتداری سے کام نہیں لیتا، سلسلہ کی زمینوں پر وہ محنت سے کام نہیں کرتا، سلسلہ کی مالی ترقی کے لیے اپنے آرام اور آسائش کو قربان نہیں کرتا ، وہ سمجھتا ہی نہیں کہ ہے دین کیا چیز ہے۔وہ یقینا فریب خوردہ ہے یا دوسروں کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے۔دین تو ایک مجموعہ نظام کا نام ہے جس میں زمینیں بھی شامل ہیں، جس میں جائیدادیں بھی شامل ہیں، جس میں مکانات بھی شامل ہیں، جس میں تجارتیں بھی شامل ہیں، جس میں کارخانے بھی شامل ہیں۔صرف تبلیغ کرنا دین نہیں۔اگر صرف تبلیغ کرنا دین ہو تو سوال یہ ہے کہ پھر دکانیں