خطبات محمود (جلد 25) — Page 230
خطبات محج محمود 230 $1944 آخری موعود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ لو بغیر جماعت کی خاص قربانیوں کے اور بغیر ترقی کے خاص سامانوں کے ہم اپنی طاقت اور قدرت سے ہی کام کر کے دکھا دیتے ہیں۔لیکن بہر حال خواہ جماعت کی قربانیوں کے بغیر یہ کام ہو۔چونکہ یہ کام ہمارے ہاتھوں سے ہو گا اس لیے ہمیں عزت ضرور مل جائے گی اور مفت میں ہمیں ثواب حاصل ہو جائے گا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک تنکے سے خدا تعالیٰ کشتیوں کا کام لے لے۔بے شک ایک تنکا اپنی ذات میں کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔لیکن جس تنکے میں خدا تعالیٰ یہ طاقت پیدا کر دے کہ وہ سہارا دے کر لوگوں کو دریا سے گزار دے اُس میں بھی ایک خوبی پیدا ہو جاتی ہے۔اس میں بھی ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔اگر وہ تنکا دنیا میں محفوظ ہو تو یقینا ہے ا ہزاروں میل سے لوگ اس کی زیارت کرنے کے لیے آئیں۔اسی طرح ہمارے ہاتھ سے اگر یہ کام ہو جائے تو ہماری مثال گو ایک تنکے کی سی ہو گی لیکن چونکہ خدا کا کام ہمارے ہاتھ سے ہوا ہو گا اس لیے ہمارا وجود خدا تعالیٰ کی کرامت اور اس کی قدرت اور اس کی رحمت کا ایک مورد اور ذریعہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ایک نشان بن جائے گا۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ گرتہ نشان تھا جس پر سرخی کے چھینٹے پڑے اور جس طرح ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ بقیہ کپڑے نشان ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ "بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے"۔1 یہ صاف بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا گرتہ قربانی نہیں کر رہا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پاجامہ قربانی نہیں کر رہا تھا بلکہ قربانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کر رہے تھے۔وہ سوزو گداز سے بھری ہوئی دعائیں جو عرش سے ٹکرا رہی تھیں ، وہ خدا کے نام ہے کی اشاعت اور اس کی بلندی کے لیے دن رات کی کوششیں جو دنیا میں ہو رہی تھیں، وہ تین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کو پھیلانے اور آپ کی عظمت سے دنیا کو روشناس کرانے کے لیے لیے جد و جہد جو اس عالم میں جاری تھی وہ تمام جد و جہد ، وہ تمام کوشش اور وہ تمام قربانی گرتہ نہیں کر رہا تھا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کر رہے تھے۔وہ رات دن کی کوفت جو مختلف علمی کتب لکھنے سے آپ کو ہوئی، وہ محفلی علوم جو آپ دنیا پر ظاہر کر رہے تھے، می دنیا۔